کئی ریسٹورانوں میں اچانک معائنہ، جی ایس ٹی ادائیگیوں کی تحقیقات شروع
سرینگر/ٹی ای این / کمرشل ٹیکس محکمہ نے سرینگر کے مختلف علاقوں میں متعدد ریستورانوں میں استعمال ہونے والی ’پیٹ پوجا‘ ایپ کے کام کاج اور اس کے ذریعے ہونے والی مالی لین دین سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ ذرائع کے مطابق محکمہ کی جانب سے گزشتہ دو روز کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں کئی ریسٹورانوں کا اچانک معائنہ کیا گیا۔بتایا جاتا ہے کہ محکمہ کی کارروائی کا بنیادی مقصد یہ جانچنا ہے کہ بعض ریسٹورانوں میں بلنگ کے لیے استعمال ہونے والی پیٹ پوجا ایپ کے ذریعے روزانہ کی فروخت، صارفین سے وصول کی جانے والی رقم اور محکمہ کو ظاہر کی جانے والی آمدنی کے درمیان کوئی فرق تو موجود نہیں۔ذرائع کے مطابق محکمہ کو بعض معاملات میں شبہ پیدا ہوا کہ ریسٹورانوں میں بلنگ کے لیے استعمال ہونے والے سافٹ ویئر کے ذریعے فروخت اور بلوں کا ریکارڈ مرتب کیا جا رہا تھا، تاہم ان لین دین کی بنیاد پر جی ایس ٹی کی ادائیگی میں مبینہ طور پر کچھ بے ضابطگیاں ہوسکتی ہیں۔ تاہم ان الزامات کی حتمی تصدیق محکمہ کی جانب سے جاری تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ معائنے کے دوران محکمہ کے اہلکاروں نے بلنگ سسٹم، روزانہ کی فروخت، نقد اور آن لائن ادائیگیوں، خریداری کے ریکارڈ اور جی ایس ٹی ریٹرن سمیت مختلف دستاویزات کا جائزہ لیا۔ بعض مقامات پر کمپیوٹرائزڈ بلنگ سسٹم اور پیٹ پوجا ایپ میں محفوظ ریکارڈ کو بھی جانچ کے دائرے میں لایا گیا ہے۔محکمہ کی جانب سے یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ ریسٹورانوں کی جانب سے صارفین کو جاری کیے جانے والے بل اور جی ایس ٹی کے تحت محکمہ کے پاس جمع کرائے جانے والے اعداد و شمار میں کوئی تضاد تو موجود نہیں۔ذرائع کے مطابق محکمہ نے اس معاملے کو جی ایس ٹی کی ادائیگی اور ممکنہ ٹیکس بے ضابطگیوں کے تناظر میں سنجیدگی سے لیا ہے اور مزید ریسٹورانوں کے ریکارڈ کی بھی جانچ کی جاسکتی ہے۔ کارروائی کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ کہیں بلنگ سافٹ ویئر کا غلط استعمال کرکے اصل کاروباری لین دین یا فروخت کو کم ظاہر تو نہیں کیا جا رہا۔محکمہ کے حکام کی جانب سے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ پیٹ پوجا ایپ کے استعمال میں واقعی کوئی بے ضابطگی ہوئی ہے یا نہیں اور اگر کوئی خلاف ورزی سامنے آتی ہے تو اس کی نوعیت کیا ہے۔دوسری جانب ریستورانوں میں اچانک معائنوں کے بعد کاروباری حلقوں میں بھی اس کارروائی کو لے کر تشویش پیدا ہوئی ہے۔ تاہم ٹیکس ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل بلنگ نظام کے ذریعے ہونے والی لین دین کی شفافیت کو یقینی بنانا اور درست جی ایس ٹی ادا کرنا ہر کاروباری ادارے کی ذمہ داری ہے۔










