70 کروڑ روپے مالیت کے جاری ترقیاتی کاموںکامعائینہ کیا ، بروقت تکمیل اور معیار کے سخت اصولوں پر عمل کرنے کی ہدایت دی
سلواہ (مینڈھر)// وزیر برائے جل شکتی ، جنگلات و ماحولیات اور قبائلی امور محکمہ جات جاوید احمد رانا نے سلواہ علاقے میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور عوامی خدمات تک رَسائی کو بہتر بنانے کے لئے ایک بڑی کوشش کے تحت سڑک رابطوں، پینے کے پانی، تعلیم اور صحت شعبوں میں کئی مکمل شدہ ترقیاتی منصوبوں کا اِفتتاح کیا اور متعددنئے کاموں کا سنگِ بنیاد رکھا۔ان اَقدامات کا مقصد لوگوں کی اہم بنیادی ضروریات کو پورا کرنا اوربالخصوص دیہی و پسماندہ علاقوں میں بنیادی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔وزیرموصوف نے سلواہ بلاک کے دورے کے دوران مختلف جاری ترقیاتی کاموں کا معائینہ بھی کیا اور ان کی طبعی و مالی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔ وزیر کو بتایا گیا کہ سلواہ بلاک اس وقت تقریباً 70 کروڑ روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔اُنہوں نے ان کاموں کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ اَفسران اورعمل آوری ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ وہ اعلیٰ معیار برقرار رکھتے ہوئے ان کی بروقت تکمیل کویقینی بنائیں۔
جاویدرانا نے اِس بات پر زور دیا کہ تمام ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد سختی سے مقررہ تکنیکی خصوصیات کے مطابق اور مقررہ مدت کے اندر کیا جانا چاہیے تاکہ ان کے فوائد جلد از جلد عوام تک پہنچ سکیں۔اُنہوں نے محکموں اورعمل آوری ایجنسیوں کے درمیان قریبی تال میل اور فیلڈ سطح پر نگرانی پر بھی زور دیا تاکہ رُکاوٹوں کی نشاندہی کی جا سکے اور انہیں فوری طور پر حل کیا جا سکے۔وزیرموصوف نے کہا، ’’ترقی تب ہی بامعنی ہوتی ہے جب وہ لوگوں کی روزمرہ زندگی میں ٹھوس بہتری کی صورت میں ظاہر ہو۔ ہماری ترجیح یہ یقینی بنانا ہے کہ بنیادی ڈھانچہ اور عوامی خدمات ہر کمیونٹی بالخصوص دیہی، دُور دراز اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والے لوگوں تک پہنچیں۔‘‘اُنہوںنے شہروں اور قصبوں کی سکیم کے تحت 90 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل کی گئی میکڈیمائزڈ سلواہ روڈ کا اِفتتاح کیا۔ توقع ہے کہ بہتر سڑک مقامی رہائشیوں کو محفوظ اور بہتر رابطہ فراہم کرے گی اور لوگوں اور سامان کی آواجاہی میں آسانی پیدا کرے گی۔اُنہوں نے سی ڈِی ایف سکیم کے تحت 20 لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی مڈل سکول کھوربنی سلواہ کی نئی عمارت کا بھی اِفتتاح کیا۔توقع ہے کہ نئی سکول عمارت طالب علموں کے لئے بہترکلاس روم کابنیادی ڈھانچہ اور تعلیم و تدریس کے لئے زیادہ سازگار ماحول فراہم کرے گی۔اُنہوں نے تعلیمی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ معیاری تعلیم کو فروغ دینے اور نوجوان نسل کے لئے بہتر مواقع پیدا کرنے کی خاطر مناسب اور جدید سہولیات ضروری ہیں۔وزیر موصوف نے کہا،’’یہ مکمل شدہ کام ترقیاتی منصوبوں کو زمینی سطح پر واضح اور ٹھوس نتائج میں بدلنے کے ہمارے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ بہتر سڑکیں، بہتر تعلیمی بنیادی ڈھانچہ اور مضبوط عوامی سہولیات جامع ترقی اور ہمارے لوگوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لئے ضروری ہیں۔‘‘اُنہوں نے نئے ترقیاتی اقدامات میں ایس اے ایس سی آئی سکیم کے تحت تقریباً 240 لاکھ روپے کی تخمینہ لاگت سے تعمیر ہونے والی نکا سلواہ۔نار ترکھانہ روڈکا سنگ بنیاد رکھا۔تکمیل کے بعد یہ سڑک اس روٹ پر واقع بستیوں کے لئے رابطے کو بہتر بنائے گی اور رہائشیوں کو تعلیمی اداروں، صحت سہولیات، بازاروں اور دیگر بنیادی خدمات تک بہتر رسائی فراہم کرے گی۔
وزیر موصوف نے ضلعی کیپکس بجٹ کے تحت تقریباً 45 لاکھ روپے کی تخمینہ لاگت سے تعمیر ہونے والی سلواہ سب سینٹر عمارت کا بھی سنگ بنیاد رکھا۔اُنہوں نے پینے کے پانی کے بنیادی ڈھانچے کو مزید تقویت دیتے ہوئے یو ٹی کیپکس کے تحت شروع کی جانے والی تین اہم واٹر سپلائی سکیموں (ڈبلیو ایس ایس) کا سنگ بنیاد رکھا۔ان میں ڈبلیو ایس ایس پٹھان تیر (تخمینہ لاگت 150 لاکھ روپے)، ڈبلیو ایس ایس سلواہ گھٹنا (تخمینہ لاگت 89.50 لاکھ روپے) اور ڈبلیو ایس ایس سلواہ (تخمینہ لاگت 633.52 لاکھ روپے) شامل ہیں۔تکمیل کے بعد ان منصوبوں سے پینے کے پانی کے موجودہ بنیادی ڈھانچے میں بہتری اور مقامی آبادی کی پانی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔جاوید رانانے کہا کہ پینے کے پانی کی مناسب، محفوظ اور قابلِ اعتماد فراہمی کو یقینی بنانا عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کی اوّلین ترجیحات میں شامل ہے۔ ہم پانی کی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لئے پُرعزم ہیں بالخصوص دیہی اور پسماندہ علاقوں میں اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ منصوبے مؤثر طریقے سے مکمل ہوں اور عوام کو ٹھوس اور دیرپا فوائد فراہم کریں۔‘‘اُنہوں نے ’’جموں و کشمیر کی بہتری کے لئے عوامی شرکت‘‘کے اقدام کے تحت گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول سلواہ میں مقامی رہائشیوں، طالب علموں اور دیگر متعلقین کے ساتھ بھی بات چیت کی۔ شرکاءنے اس بات چیت کے دوران سڑک رابطہ، پینے کے پانی کی فراہمی، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق مختلف مسائل اُجاگر کئے۔وزیر موصوف نے شرکأ کے مسائل اور تجاویز بغور سُنا اور انہیں یقین دِلایا کہ اُٹھائے گئے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پرجائزہ لیاجائے گا اور مناسب کارروائی کے لئے متعلقہ محکموں کے سامنے اُٹھایا جائے گا۔










