IFFJ 2026

جموںوکشمیر کے فلم سازوں نے’ آئی ایف ایف جے کے 2026 ‘میں نمایاں مظاہرہ کیا

مقامی فلمی صلاحیتوںنے’ جموںوکشمیر کے پہلے بین الاقوامی فلم فیسٹول ‘میں اَپنی نمایاں شناخت قائم کی

سری نگر//جموںوکشمیر کے تین فلم سازوں نے جموں و کشمیر سے اُبھرتی ہوئی تخلیقی صلاحیتوں کے ایک اہم اعتراف میں ’جموں و کشمیر کے پہلے بین الاقوامی فلم فیسٹول (آئی ایف ایف جے کے) 2026 ‘میں پیش کے گئے نو ایوارڈز میں سے تین ایوارڈز اَپنے نام کئے ہیں۔یہ کامیابی خطے کی بڑھتی ہوئی فلم سازی کمیونٹی کے لئے باعث ِ فخر ہے کیوں کہ کشمیری فلم سازوں نے ایک ایسے پلیٹ فارم پر اَپنی موجودگی کا احساس دِلایا جہاں پورے ہندوستان اور دُنیا بھر سے نامور فلم ساز، فنکار، تکنیکی ماہرین، صنعتی پیشہ ور اَفراد اور سنیما کے شائقین اکٹھے ہوئے تھے۔بابا تصدق حسین نے دستاویزی فلم ’’نقشِ دور (غلام نبی دھر کی کہانی)‘‘ کے لئے بہترین سینماٹوگرافی کا ایوارڈ جیتا جس کی بصری کہانی گوئی اور سنیمائی کیلئے بے حد سراہا گیا۔بہترین ابھرتے ہوئے فلم ساز کا ایوارڈ اجیت سنگھ بھسین کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’’اسکینی: دی گائیڈنگ ڈارکنیس‘‘کو دیا گیاجس میں فلم کے منفرد فلمی اسلوب اور اُمید اَفزا تخلیقی انداز کو سراہا گیا۔خطے کے اعزازات میں ایک اور بڑا اعزاز شامل کرتے ہوئے فلم ساز کپل متو کی فلم ’’تصرف دار ۔ دی جنز آف کشمیر‘نے جموںوکشمیر سلیکٹ زُمرے میں’ بہترین فلم‘ کا ایواڑڈ جیتا۔ یہ فلم خطے کی منفرد ثقافتی اور کہانی گوئی کی روایات کی عکاسی کرتی ہے۔یہ تینوں ایوارڈز ’سینماٹوگرافی، اُبھرتی ہوئی فلم سازی اور جموں و کشمیر کی بہترین فلم ‘ خطے میں موجود سنیمائی صلاحیتوں کے تنوع اور گہرائی کو اُجاگر کرتے ہیں۔
فیسٹول کے دوران مقامی فلم سازوں کی منتخب فلموں جیسے سدھارتھ کول اور انکت والی کی ہدایت کاری میں بننے والی ’’بٹ کوچ (دی لاسٹ لین)‘‘، کپل متو کی’’تصرف دار (جنز آف کشمیر)‘‘ اور بابا تصدق حسین کی “’’نقشِ دور (غلام نبی دھر کی کہانی)”‘‘کو ناظرین کی جانب سے بے حدپر سراہا گیا۔’’بٹ کوچ‘‘ کوفیسٹول کی اختتامی فلم کے طور پر دکھایا گیا جسے معروف فلم ساز رمیش سپی اور ناظرین کی جانب سے کافی پذیرائی ملی۔ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے فلم ساز راحت شاہ کاظمی کی فلم ’’لو اِن ویتنام‘‘ بھی فیسٹول کے دوران دکھائی گئی اور اسے بھی وسیع پیمانے پر سراہا گیا۔یہ پذیرائی بالخصوص اس لئے اہم ہے کہ ’آئی ایف ایف جے کے‘ کے پہلے ایڈیشن نے جموں و کشمیر کے فلم سازوں کو ملک اور دُنیا کے مختلف حصوں کی فلموں کے ساتھ اپنے کام پیش کرنے کے لئے ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم فراہم کیا۔ ان تینوں فلموں کی کامیابی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ فیسٹول مقامی داستان گو فن کاروں کو وسیع تر سامعین، صنعتی پیشہ ور اَفراد اور عالمی فلم کمیونٹی سے جڑنے کے بامقصد مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔جموں و کشمیر کے فلم سازوں کی یہ شاندار کارکردگی یونین ٹیریٹری کے اُبھرتے ہوئے تخلیقی منظرنامے کی بھی عکاسی کرتی ہے جہاں فلم ساز متنوع فلمی اسالیب کے ذریعے مقامی تاریخ، لوک روایات، قدرتی مناظر، عصری حقائق اور ثقافتی بیانیوں کو اُجاگر کر رہے ہیں۔توقع ہے کہ اس کامیابی سے خطے کے نوجوان فلم سازوں اور اُبھرتے ہوئے فنکاروں کی مزید حوصلہ افزائی ہوگی کہ وہ اپنے تخلیقی عزائم کی تکمیل کریں اور ایسی کہانیاں پیش کریں جو جموں و کشمیر کے منفرد تجربات، ورثے اور ثقافتی شناخت سے جڑی ہوں۔محکمہ اطلاعات و رابطہ عامہ (ڈِی آئی پی آر) کے زیر اہتمام منعقدہ ’جموں و کشمیر کے پہلے بین الاقوامی فلم فیسٹول‘ نے یوں نہ صرف عالمی سنیما کے جشن کے لئے بلکہ جموں و کشمیر کی تخلیقی آوازوں کو وسیع تر قومی اور بین الاقوامی سامعین وناظرین کے سامنے پیش کرنے کے لئے بھی ایک اہم پلیٹ فارم بن کر اُبھرا ہے۔