اسمرتی مندھانا (ناٹ آؤٹ ۸۸؍رن) کی نصف سنچری اننگز کی بدولت مانچسٹر سپر جائنٹس نے دی ہنڈریڈ (خواتین) کے ۱۰؍ویں مقابلے میں سن رائزرز لیڈز کو چار وکٹوں سے ہرا دیا۔ سن رائزرز نے چار وکٹوں پر ۱۴۲؍ رنز بنائے تھے اور جواب میں ۱۴۳؍ رنز کے ہدف کا تعاقب کرنے اتری سپر جائنٹس کو مسلسل دھچکے لگ رہے تھے۔ اس دوران مندھانا ایک سرے پر ڈٹی رہیں اور سپر جائنٹس کو جیت دلا کر ہی واپس آئی۔ سپر جائنٹس کی ایک اور ہندوستانی کھلاڑی رچا گھوش صرف چار رنز ہی بنا سکیں۔ اس میچ میں دپتی شرما بھی کھیل رہی تھیں، حالانکہ وہ مندھانا اور گھوش کی مخالف ٹیم سن رائزرز کے دستے میں تھیں۔ دپتی نے مقابلے میں دو اہم کیچ لئے جس میں گھوش کا کیچ بھی شامل تھا۔
مندھانا کے علاوہ صرف سپر جائنٹس کی کپتان میگ لیننگ ہی دہائی کے ہندسے تک پہنچ سکیں اور انہوں نے کل ۲۴؍ رنز بنائے۔ مندھانا کے ساتھ مل کر لیننگ نے پہلے وکٹ کے لیے ۳۱؍ گیندوں پر۴۲؍ رنز کی شراکت داری کی لیکن اس کے بعد سپر جائنٹس کو مسلسل دھچکے لگتے رہے۔ ایک وقت سپر جائنٹس کا اسکور ایک وکٹ پر ۶۱؍ رنز تھا لیکن اس کے بعد۱۰؍ رنز کے اندر ہی سپر جائنٹس نے چار وکٹ گنوا دیئے۔ ٹیم کا اسکور جب ۹۹؍رنز تھا تب گریس اسکریوینس نو کے ذاتی اسکور پر رن آؤٹ ہو گئیں۔ یہاں سے ۲۵؍ گیندوں میں سپر جائنٹس کو جیت کے لیے ابھی بھی ۴۳؍ رنز کی ضرورت تھی۔
یہاں سے مندھانا نے کیتھرین برائس کے ساتھ مل کر شراکت داری قائم کی اور آخر میں مسلسل دو چھکے جڑتے ہوئے سپر جائنٹس کو سیزن کی دوسری جیت دلائی۔ مندھانا نے ۵۰؍ گیندوں پر سات چوکوں اور چار چھکوں کی مدد سے ناٹ آؤٹ ۸۸؍ رنز بنائے۔ مندھانا جب ۳۰؍رن کے ذاتی اسکور پر تھیں تب فیبی لچ فیلڈ نے ان کا کیچ چھوڑ دیا۔ جب سپر جائنٹس کو ۱۰؍ گیندوں پر۱۶؍ رنز کی ضرورت تھی تب ڈارسی کارٹر کے ہاتھوں سے گیند چھوٹ کر چوکے کے لیے نکل گئی۔ ان دو موقعوں کو چھوڑ دیں تو مندھانا نے ایک شاندار اننگز کھیلی۔ شروعات میں وہ کچھ سنبھل کر کھیلیں اور ۳۳؍ گیندوں پر انہوں نے اپنی نصف سنچری مکمل کی۔
اس سے پہلے سپر جائنٹس نے ٹاس جیت کر سن رائزرز کو پہلے بلے بازی کی دعوت دی تھی اور جیس جوناسن کے طور پر انہیں ابتدائی ھچکا بھی لگ گیا تھا۔ جوناسن کے رن آؤٹ ہونے کے بعد براونی اسمتھ اور لچ فیلڈ کے درمیان شراکت داری قائم ہوئی اور دونوں نے مل کر دوسرے وکٹ کے لیے ۳۹؍ رنز جوڑے حالانکہ میڈی ولیئرز نے اس شراکت داری کو ٹیم کے ۵۷؍ کے اسکور پر توڑا اور اس کے بعد لچ فیلڈ بھی ۳۱؍رن کے ذاتی اسکور پر برائس کا شکار بن گئیں۔ لچ فیلڈ کی اننگز کا خاتمہ مندھانا نے کیچ لپک کر کیا اور تب تک سن رائزرز نے ۶۴؍ گیندوں پر بورڈ پر۷۴؍ رنز جوڑ لیے تھے۔ حالانکہ اس کے بعد اینابیل سدرلینڈ نے جارحانہ بلے بازی کرتے ہوئے سن رائزرز کی اننگز کو رفتار دے دی۔ دوسرے سرے پر لارین ون فیلڈ ہل نے بھی سدرلینڈ کا ساتھ دیا۔ دونوں کے درمیان چوتھے وکٹ کے لیے ۳۰؍ گیندوں پر ۴۹؍ رنز کی شراکت داری ہوئی۔ سدرلینڈ نے ۲۴؍ گیندوں پر ۴؍ چوکوں کی مدد سے ۳۵؍ رنز بنائے۔ ایک بار پھر مندھانا نے کیچ لیتے ہوئے سدرلینڈ کی اننگز کا خاتمہ کیا۔ کپتان ڈینیئل گبسن نے چھ گیندوں پر تین چوکوں کی مدد سے ۱۸؍ رنز کی ناٹ آؤٹ اور اہم اننگز کھیلی اور انہوں نے ٹیم کے اسکور کو۱۴۲؍رن تک پہنچا دیا۔ (انقلاب)










