تہران/ایجنسیز// تہران پر پہلے امریکی اسرائیلی حملے میں سابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے جاں بحق ہونے کے تقریباً 125 دن گزرنے کے بعد ایران جمعہ کے دن سے ان کی نماز جنازہ اور آخری رسومات کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ رسومات 9 جولائی تک جاری رہیں گی۔ انہیں ان کے آبائی شہر “مشہد” میں دفن کیا جائے گا۔ اس حوالے سے وسیع سکیورٹی اور تنظیمی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ان کی نماز جنازہ میں بین الاقوامی رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔ تقریب کا انتظام سنبھالنے والی قومی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ 90 سے زیادہ ملکوں کے نمائندوں اور مذہبی رہنماؤں نے اپنی شرکت کی تصدیق کی ہے۔ 30 سے زیادہ ملکوں نے تعزیتی اور جنازے کی رسومات میں شرکت کیلئے اعلیٰ سطح کے حکام بھیجنے کی سرکاری درخواستیں جمع کرائی ہیں۔ سابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی نماز جنازہ میں عراق، پاکستان اور افغانستان سے عوامی وفود بھی شریک ہوں گے۔ سرکاری رسومات تہران میں جمعہ کو دنیا کے مختلف ممالک کے صدور، حکام اور مذہبی شخصیات کی موجودگی میں شروع ہو رہی ہیں۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف مرحوم ایرانی رہنما کے سرکاری جنازے میں شرکت کریں گے۔ اسی طرح چینی وزارت خارجہ نے مول ہے کہ نیشنل پیپلز کانگریس کی مستقل کمیٹی کے ایک سینئر رکن کل سرکاری جنازے میں شرکت کریں گے۔ مرحوم رہنما کے جنازے کی سرکاری رسومات جمعہ کو تہران میں شروع ہونے والی ہیں جہاں دنیا بھر کے ممالک کے رہنماؤں، اعلیٰ حکام اور مذہبی شخصیات کی موجودگی میں ایک سرکاری تعزیتی تقریب منعقد کی جائے گی۔ ہفتے کی صبح مصلیٰ امام خمینی کے دروازے شہریوں کیلئے کھول دیے جائیں گے تاکہ وہ جسد خاکی کا آخری دیدار کر سکیں۔ اس کے ساتھ ہی عوامی الوداعی رسومات کا آغاز ہوگا جو پورا دن جاری رہیں گی۔ اتوار 5 جولائی کو الوداعی رسومات جاری رہیں گی اور جسد خاکی پر نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔ پیر کے دن تہران کی سڑکوں پر وسیع عوامی شرکت کے ساتھ سرکاری جنازے کا جلوس نکالا جائے گا۔ایرانی حکام نے شہریوں کی شرکت کو آسان بنانے کیلئے صوبہ تہران میں 4 اور 5 جولائی کو سرکاری تعطیل اور 6 جولائی کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ منگل 7 جولائی کو جسد خاکی کو قم شہر منتقل کیا جائے گا جہاں مسجد جمکران میں ایک سینئر مرجع تقلید کی امامت میں نئی نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔
علاوہ ازیں 8 جولائی کو جسد خاکی کو عراق منتقل کیا جائے گا جہاں استقبالیہ رسومات کے بعد نجف اور کربلا کے شہروں میں جنازے کے جلوس نکالے جائیں گے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے روضے تک جائیں گے۔ یہ وہ اقدام ہے جس پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عراق کے اپنے حالیہ دورے کے دوران گفتگو کی تھی۔
عراق میں انہوں نے تیاریوں کی سطح کا جائزہ لینے کیلئے دونوں شہروں کے گورنروں سے ملاقات کی تھی۔تقریب کا انتظام سنبھالنے والی قومی کمیٹی کے مطابق یہ رسومات 9 جولائی کو خامنہ ای کے آبائی شہر مشہد میں ختم ہوں گی جہاں تدفین کی رسومات محدود حاضری تک ہی مخصوص ہوں گی تاکہ پرامن اور منظم ماحول میں ان کے انعقاد کو یقینی بنایا جا سکے۔










