واشنگٹن / تہران/یو این آئی// امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے مثبت اشارے دیتے ہوئے کہا ہے کہ آنے والے چند دن صورتحال کا رخ واضح کر دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی ایران کے ساتھ کسی معاہدے کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم فوجی کارروائی کا متبادل بدستور موجود ہے ۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل کے بارے میں حوصلہ افزا اشارے مل رہے ہیں اور جلد صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کے خواہاں ہیں، لیکن اگر ضرورت پڑی تو فوجی متبادل بھی زیر غور رہے گا۔امریکی وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی ثالثی امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمہ کیلئے کسی قابلِ قبول معاہدہ تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوگی۔مارکو روبیو نے کہا کہ ان کے خیال میں پاکستانی حکام آج تہران جائیں گے اور انہیں امید ہے کہ اس سے مذاکراتی عمل میں پیش رفت ہوگی۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں ٹیکس عائد کرتا ہے تو اس کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔روبیو کے مطابق دنیا کا کوئی ملک اس بات کی حمایت نہیں کرتا کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹیکس عائد کرے ۔ایرانی معاملے پر نیٹو کے کردار سے متعلق سوال پر امریکی وزیر خارجہ نے شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے میزائل یورپ کے لیے بھی خطرہ ہیں اور نیٹو کو امریکہ کی مہم میں ساتھ دینا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ نیٹو اکثر ان اقدامات سے گریز کرتا ہے جن کا امریکہ مطالبہ کرتا ہے اور اس معاملے پر صدر ٹرمپ شدید مایوسی محسوس کر رہے ہیں۔دوسری جانب تہران پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ممکنہ دورے کا منتظر ہے ، جو اسلام آباد کی قیادت میں جاری ثالثی کوششوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے ۔رپورٹس کے مطابق تہران اس وقت 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کی گئی امریکی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے ۔یاد رہے کہ مذاکراتی عمل میں تعطل کے بعد واشنگٹن نے 13 اپریل کو ایرانی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ شروع کیا تھا، جس کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو اپنے ساتھ رابطہ کاری سے مشروط کر دیا تھا۔










