جن سنگھ دور سے وابستگی، کارکنان کو وراثت برقرار رکھنے کی تلقین// ڈاکٹر جتیندر سنگھ
سرینگر//یو این ایس/ / مرکزی وزیر ڈاکٹر جتندر سنگھ نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر، بی جے پی کی نظریاتی تاریخ اور ارتقا میں ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جس کی جڑیںبھارتیہ جن سنگھ کے ابتدائی دور سے جڑی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس جماعت کی بنیاد 1951 میں شاما پرساد مکھرجینے رکھی تھی، اور جموں و کشمیر کے ساتھ اس کا تعلق ابتدا ہی سے نہایت مضبوط رہا ہے۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے یاد دلایا کہ ڈاکٹر مکھرجی نے 1953 میں جموں و کشمیر کے مکمل انضمام کے لیے ایک بڑی تحریک چلائی تھی اور اسی سلسلے میں وہ یہاں آئے تھے، جہاں سری نگر میں ان کا انتقال ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس تاریخی وابستگی نے نہ صرف جن سنگھ کو ابتدائی تقویت بخشی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے پارٹی کی شناخت کو بھی جموں و کشمیر کے ساتھ جوڑ دیا۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں بی جے پی کے کارکنان اس نظریاتی وراثت کے حقیقی وارث ہیں، جو ایک طرف ان کے لیے اعزاز ہے تو دوسری جانب ایک بڑی ذمہ داری بھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں پارٹی کی سیاسی گفتگو اور انتخابی مہمات میں جموں و کشمیر کا حوالہ بار بار دیا جاتا ہے، اس لیے یہاں کے کارکنان کا کردار قومی سطح پر اہمیت کا حامل بن جاتا ہے۔مرکزی وزیر جموں میں پارٹی عہدیداران اور سینئر کارکنان کے ایک اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، جس میںست پال شرما،جگل کشور شرما،غلام علی کھٹانہ اور اشوک کول سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ اجلاس میں تنظیمی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ پروگراموں کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔اجلاس کے آغاز میں معروف شخصیات کے انتقال پر تعزیت کا اظہار بھی کیا گیا، جن میں مشہور گلوکارہ آشا بوسلے اور کٹھوعہ سے بی جے پی کے ایم ایل اے بھارت بھوشن شامل تھے۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے تنظیمی ترقی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کا جن سنگھ سے دنیا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بننے تک کا سفر نظریاتی وابستگی اور عوامی سطح پر مسلسل محنت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے ست پال شرما کو مسلسل دوسری بار جموں و کشمیر بی جے پی کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی اور اسے ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دیا۔انہوں نے تنظیم میں شمولیت کو فروغ دینے اور نوجوان قیادت کو آگے لانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں نئے افراد کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں اور افراد کی ترقی کو پارٹی کی مضبوطی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے بدلتے ہوئے مواصلاتی نظام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا اور فوری اطلاعات نے سیاسی رابطے کے انداز کو تبدیل کر دیا ہے، اس لیے کارکنان کو ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ حقائق پر مبنی مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔ترقیاتی امور پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں مرکزی حکومت کی مسلسل معاونت سے ترقی کی رفتار تیز ہوئی ہے۔ انہوں نے اوج ملتی پرپرز پروجیکٹ اور شاہپور کنڈی منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایسے دیرینہ منصوبے تھے جو اب عملی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات ماضی کی تاخیر کو دور کرنے اور خطے کی ترقی کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جموں میں کینابس پر مبنی ریسرچ پروجیکٹ، جو بین الاقوامی اشتراک سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت شروع کیا جا رہا ہے، ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ملک کی جوہری توانائی کے شعبے میں ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت فاسٹ بریڈر ری ایکٹر ٹیکنالوجی کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جو چند ترقی یافتہ ممالک کے پاس ہی موجود ہے۔آخر میں ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے پارٹی کارکنان پر زور دیا کہ وہ ان ترقیاتی کامیابیوں کو عوام تک مؤثر طریقے سے پہنچائیں اور نچلی سطح پر عوامی رابطہ مضبوط کریں، ساتھ ہی انتظامیہ کے ساتھ تعمیری تعاون کو فروغ دیں تاکہ حکومتی اسکیموں کا مؤثر نفاذ یقینی بنایا جا سکے۔










