Narendar Modi

خواتین ریزرویشن ایکٹ کے نفاذ کا وقت آ گیا

پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں ترمیمی بل لانے کی تیاری// وزیر اعظم نریندر مودی

نئی دہلی//وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ خواتین کے لیے ریزرویشن کے قانون کو اس کی اصل روح کے مطابق نافذ کرنے کا وقت آ چکا ہے اور 2029 کے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات خواتین کے کوٹے کے ساتھ ہی منعقد ہونے چاہئیں۔ انہوں نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے فلور لیڈران کو ایک خط لکھتے ہوئے تمام اراکین سے اپیل کی کہ وہ اس اہم معاملے پر یک آواز ہو کر قانون میں ضروری ترامیم کی منظوری دیں۔یو این ایس کے مطابق وزیر اعظم نے اپنے خط میں، جو 11 اپریل کو تحریر کیا گیا، کہا کہ طویل غور و خوض کے بعد اس نتیجے پر پہنچا گیا ہے کہ اب ناری شکتی وندن ادھی نیم کو پورے ملک میں مؤثر طریقے سے نافذ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ 2029 کے عام انتخابات اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات خواتین کے لیے مختص نشستوں کے ساتھ کرانا نہایت ضروری ہے تاکہ خواتین کی سیاسی نمائندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس میں توسیع کی گئی ہے اور 16 سے 18 اپریل تک تین روزہ خصوصی اجلاس طلب کیا گیا ہے، جس میں خواتین ریزرویشن قانون میں ترمیم پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ حکومت کا مقصد اس قانون میں ایسی تبدیلیاں لانا ہے تاکہ اس کا اطلاق 2029 کے انتخابات سے پہلے ممکن بنایا جا سکے۔واضح رہے کہ اس قانون کے تحت لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد بڑھا کر 816 کرنے کی تجویز ہے، جن میں سے 273 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہوں گی۔ خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن فراہم کرنے کی یہ شق 2023 میں آئینی ترمیم کے ذریعے شامل کی گئی تھی، تاہم موجودہ قانون کے مطابق اس کا نفاذ مردم شماری 2027 کے بعد حد بندی (ڈیلیمیٹیشن) کے عمل کی تکمیل سے مشروط تھا۔موجودہ قانونی ڈھانچے کے تحت یہ امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ خواتین کے لیے ریزرویشن کا اطلاق 2034 سے پہلے ممکن نہیں ہوگا، تاہم حکومت اب اس میں ترمیم کر کے اسے جلد نافذ کرنا چاہتی ہے۔ اسی مقصد کے تحت پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلایا گیا ہے تاکہ قانون میں ضروری تبدیلیاں کی جا سکیں اور خواتین کی سیاسی شمولیت کو عملی شکل دی جا سکے۔وزیر اعظم نے اپنے خط میں اس بات پر بھی زور دیا کہ خواتین کی بااختیار شمولیت جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ناگزیر ہے اور اس سلسلے میں تمام سیاسی جماعتوں کو مشترکہ طور پر آگے آنا چاہیے تاکہ اس تاریخی اقدام کو کامیاب بنایا جا سکے۔