وزیرا علیٰ نے نئے تعینات اَفراد کو خلوص او رلگن کے ساتھ کام کرنے کی ترغیب دِی
سری نگر// وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے شیر کشمیر اِنٹرنیشنل کنونشن سینٹر (ایس کے آئی سی سی ) میں صوبہ کشمیر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 90مستفیدین میں ایس آر او۔43اور رِی ہیبلی ٹیشن اسسٹنس سکیم ( آر اے ایس )کے تحت تقرری نامے تقسیم کئے۔یہ تقرریاں ہمدردانہ بنیادوں پر کی گئی ہیں جن کا مقصد اُن کنبوں کو ضروری روزگار فراہم کرنا ہے جنہوں نے اپنے بنیادی کمانے والے رُکن اور کفیل کو کھو دیا ہے اورحکومت اس عزم کا اعادہ کرتی ہیں کہ وہ مشکلات کے وقت ایسے کنبوںکے ساتھ مضبوطی سے کھڑی رہے گی۔وزیر اعلیٰ نے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اِس بات پر زور دیا کہ حکومت نے لوگوں کے ساتھ بالخصوص ان لوگوں کے ساتھ جو ذاتی المیوںو سانحات کا سامنا کر چکے ہیں ’شانہ بشانہ’‘کھڑے رہنے کی مخلصانہ کوششیں کی ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمت حاصل کرنا انتہائی فخر اور خوشی کا لمحہ ہے لیکن جن حالات میں یہ تقرریاں دی جاتی ہیں وہ اُمیدواروں کے لئے اِنتہائی تکلیف دہ ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا،’’کچھ لوگ اِمتحانات اور انٹرویوز کے ذریعے سرکاری نوکری حاصل کرتے ہیںلیکن آپ نے کسی بھی امتحان سے بڑھ کر قربانی دی ہے۔ آپ نے اَپنے کسی عزیز کو کھو دیا ہے جو اَب آپ کے ساتھ نہیں ہے۔‘‘اُنہوںنے کہا کہ کوئی بھی معاوضہ واقعی کسی عزیز کی کمی کو پورا نہیں کر سکتا اور اگر کبھی انتخاب کا موقع ملے تو کوئی بھی شخص ملازمت کے بدلے اَپنے بچھڑے ہوئے عزیز کی واپسی کو ترجیح دے گا۔وزیر اعلیٰ نے نظامی اِصلاحات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایس آر او۔43 سے رِی ہیبلی ٹیشن اسسٹنس سکیم میں منتقلی کا مقصد ساختی خامیوں کو دُور کرنا اور نظام کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔اُنہوں نے ایسے معاملات میں تاخیر کا اعتراف کیا اور یقین دِلایاکہ رُکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے مزید کوششیں کی جائیں گی۔وزیراعلیٰ نے کہا،’’آج بھی سسٹم میں کچھ خامیاں موجود ہیں جنہیں ہم دور کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہمیں معلوم ہے کہ منظوریوں اور طریقۂ کار میں تاخیر آپ کی مشکلات میں اِضافہ کرتی ہے۔ ہم اس عمل کو آسان اور تیز بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔‘‘اُنہوں نے فائدہ اُٹھانے والوں کو درپیش صورتحال کو ایک عظیم نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ متاثرہ کنبوں کو مشکل طریقۂ کار سے گزرنے پر مجبور کرنا نااِنصافی کے مترادف ہوگا۔وزیرا علیٰ نے کہا،’’ایسے نقصان کے بعد اگر لوگوں کو ایک دفتر سے دوسرے دفتر کے چکر لگوائے جائیں تو یہ سنگین نااِنصافی ہے۔ ہم اسے ختم کرنے کے لئے پُرعزم ہیں۔‘‘اُنہوں نے تقرری حاصل کرنے والوں کو مُبارک باد دیتے ہوئے اس موقعہ کو ان کی زندگی کا نیا باب قرار دیا اور انہیں دیانت داری ، ایمانداری اور خلوص کے ساتھ عوامی خدمت کے لئے خود کو وقف کرنے کی تلقین کی۔وزیراعلیٰ نے یاد دِلایا کہ منتخب نمائندوں کے برعکس جن کی مدت عوامی مینڈیٹ پر منحصر ہوتی ہے، سرکاری ملازمین پر طویل مدت تک عوام کی خدمت کی ذِمہ داری عائد ہوتی ہے۔اُنہوں نے کہا، ’’آج سے ریٹائرمنٹ تک آپ عوام کی خدمت کریں گے۔ ہمیشہ آسان راستے کے بجائے مشکل مگر درست راستے کا انتخاب کریں۔‘‘عمر عبداللہ نے نئے تعینات افراد کو بیرونی اثرات سے خبردار کیا اور پیشہ ورانہ ذِمہ داریوں میں اخلاقی اصولوں کی پابندی کرنے کی تاکید کی۔اُنہوں نے حکومت کے معاون موقف کا اعادہ کرتے ہوئے مستفیدین کو ہدایت دی کہ کسی بھی مشکل کی صورت میں متعلقہ حکام سے رجوع کریں اور یقین دلایا کہ ان کے مسائل کا فوری اَزالہ کیا جائے گا۔اُنہوں نے ان کی کامیابی کے لئے دُعا بھی کی۔وزیراعلیٰ نے صوبائی اِنتظامیہ بالخصوص صوبائی کمشنر کشمیر اور ان کی ٹیم کی کوششوں کو سراہا جنہوں نے تقرری کے احکامات کی اِجرائی میں معاونت کی اور اُمید ظاہر کی کہ زیر اِلتوأ معاملات کو بھی جلد نمٹا لیا جائے گا۔تقریب میں وزیر جاوید احمد ڈار، وزیر ستیش شرما، وزیراعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، کمشنر سیکرٹری جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ ایم راجو، صوبائی کمشنر کشمیر انشل گرگ، ضلع ترقیایت کمشنرسری نگر ، کمشنر ایس ایم سی فضل الحسیب، ایم ڈِی کے پی ڈِی سی ایل محمود احمد شاہ، ڈائریکٹر ایس کے آئی سی سی حارث احمد ہنڈو، ڈائریکٹر ٹورازم کشمیر قمر سجاد دیگر سینئر افسران اور اِستفادہ کنندگان کے ساتھ اُن کے اہلِ خانہ موجود تھے۔










