سکینہ اِیتو نے ضلع کولگام کے ژالہ باری سے متاثرہ دیہاتوں کا دورہ کیا

سکینہ اِیتو نے ضلع کولگام کے ژالہ باری سے متاثرہ دیہاتوں کا دورہ کیا

نقصانات کا موقعہ پر جائزہ لیا، فوری تخمینہ اور اِمدادی اَقدامات کی ہدایات جاری

کولگام// وزیر برائے صحت و طبی تعلیم، سماجی بہبود اور تعلیم سکینہ ِایتو نے ضلع کولگام کے ژالہ باری سے متاثرہ دیہاتوں کا دورہ کیا تاکہ نقصانات اور زمینی سطح پر جاری اِمدادی اَقدامات کا جائزہ لیا جا سکے۔دورے کے دوران وزیرموصوفہ نے مختلف علاقوں جیسے ڈِی ایچ پورہ، نہامہ، منزگام، بٹھی پورہ، لڈگو رمبھامہ، پومبے اور دیگر دیہاتوںمیں زرعی فصلوں، باغات، رہائشی مکانات اور عوامی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات کا موقعہ پر اَز خودجائزہ لیا۔اُنہوں نے متاثرہ کنبوں، کسانوں اور مقامی نمائندوں سے روبرو بات چیت کرتے ہوئے یقین دِلایا کہ اس مشکل وقت میں حکومت عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور بروقت اِمداد کو یقینی بنایا جائے گا ۔ سکینہ ایتو نے کہا،’’ضلعی اِنتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ نقصانات کا تفصیلی اور درست تخمینہ لگایا جائے، موجودہ سرکاری ضوابط کے تحت بروقت امداد فراہم کی جائے اور متاثرہ باغبانوں اور کسانوں کو بغیر کسی تاخیر کے ہر ممکن مدد دی جائے۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ حکومت فوری امداد کے ساتھ ساتھ طویل مدتی تعاون فراہم کرنے کے لئے بھی پُرعزم ہے تاکہ آفاتِ سماوی سے متاثرہ کسانوں اور دیہی معیشت پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا جا سکے۔وزیر موصوفہ نے کہا ،’’ اس مشکل وقت میں ہماری حکومت مکمل طور پر کسان کمیٹی کے ساتھ کھڑی ہے ۔ ہم یقینی بنائیں گے کہ تمام نقصانات کا منصفانہ معاوضہ دیا جائے ۔ ‘‘ اُنہوں نے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت دی کہ فوری سروے کے لئے فیلڈ ٹیمیں تعینات کی جائیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مستحق مستفیدین کو سرکاری اَصولوں کے مطابق معاوضہ فراہم کیا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ نقصانات کی رپورٹ شفاف طریقے سے تیار کر کے مقررہ مدت کے اندر جمع کی جائے تاکہ متاثرہ کنبوں کو جلد از جلد امداد فراہم کی جا سکے۔مقامی لوگوں نے وزیر کے دورے کو سراہتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ حکومت کی بروقت مداخلت سے انہیں ژالہ باری سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لئے جلد مدد فراہم ہوگی۔دورے کے دوران وزیر موصوفہ کے ہمراہ ضلعی اِنتظامیہ کے سینئر اَفسران بشمول ایس ڈِی ایم نورآباد، چیف ایگری کلچر آفیسر، چیف ہار ٹی کلچر آفیسر، دیگر متعلقہ اَفسران اوربڑی تعداد میں مقامی اَفراد بھی تھے۔