مونتری، یکم اپریل (آئی اے این ایس) ایک تاریخی کامیابی میں عراق نے 40 سالہ طویل انتظارکا خاتمہ کرتے ہوئے فیفا ورلڈ کپ 2026 میں رسائی حاصل کرلی ہے ، جب اس نے مونتری اسٹیڈیم میں کھیلے گئے کوالیفائر کے آخری میچ میں بولیویا کو 2-1 سے سنسنی خیز شکست دی۔ عراق نے آخری بار1986 میں اس کثیر قومی ٹورنمنٹ میں شرکت کی تھی، جس کی میزبانی بھی میکسیکو نے مشترکہ طور پرکی تھی، تاہم ٹیم گروپ مرحلے سے ہی باہر ہوگئی تھی۔ اب 40 سال بعد وہ اسی مقام پر واپس آئیں گے اور47 ٹیموں کے ساتھ مقابلہ کریں گے تاکہ اپنا پہلا فیفا ورلڈکپ خطاب جیت سکیں۔ عراق نے میچ میں ابتدائی برتری حاصل کی جب لوٹن ٹاؤن کے اسٹرائیکر امیر العماری نے کارنر سے گیند الحمدی تک پہنچائی، جنہوں نے ہیڈرکے ذریعے گیند کوگول کیپر کے پاس سے جال میں پہنچا دیا۔ تاہم بولیویا دباؤ میں پیچھے نہیں ہٹا اور اس نے 38ویں منٹ میں شاندار واپسی کرتے ہوئے موئیسز پانی آگوا نے 12 گزکے فاصلے سے طاقتور شاٹ کے ذریعہ اسکور برابرکردیا، جو رامیرو واکا کے دفاع کو چیرتے ہوئے پاس کے بعد ممکن ہوا۔ عراق کے حسین نے53 ویں منٹ میں اپنی ٹیم کو دوبارہ برتری دلائی، جب انہوں نے بہترین وقت پر دوڑ لگاتے ہوئے مارکو فارجی کے کراس پر آٹھ گزکے فاصلے سے پہلی ہی کِک پر نچلا والی شاٹ لگا کرگول کیا۔ بولیویا جو1994کے بعد پہلی بار فائنلز میں جگہ بنانے کی کوشش کررہا تھا، نے میچ کے اختتام پر دباؤ بڑھایا لیکن عراق نے مضبوط دفاع کرتے ہوئے ورلڈ کپ کی 48 ٹیموں میں آخری جگہ حاصل کر لی۔ عراق کے ہیڈ کوچ گراہم آرنلڈ نے میچ کے بعد کہا مجھے کھلاڑیوں کا بے حد شکریہ ادا کرنا ہوگا۔ ان کی محنت انہوں نے حقیقی عراقی ذہنیت کا مظاہرہ کیا، لڑنے اور اپنے جسم کو داؤ پر لگانے کا اسی لیے ہم یہ میچ جیتے ۔ 62 سالہ کوچ جو 2022 ورلڈکپ قطر میں آسٹریلیا کے ہیڈ کوچ تھے، نے اپنے جنوبی امریکی حریف کی بھی تعریف کی۔ یہ ایک بہت مشکل میچ تھا۔ بولیویا کو مکمل سہرا جاتا ہے، انہوں نے اچھا کھیلا۔ صرف ہمارے کھلاڑیوں کے بہترین دفاع کی وجہ سے ہم جیت سکے۔ ہم نے کراسزکو بہت اچھے طریقے سے روکا، اسی لیے ہم جیت گئے۔میچ ہارنے کے بعد بولیویا کے ہیڈ کوچ اوسکار ویلیگاس نے کہا یہ بہت مشکل ہے۔ ہم اس ورلڈ کپ میں جانا چاہتے تھے۔ ہم نے اس کے لیے سخت محنت کی۔ مجھے کھلاڑیوں پر فخر ہے، ان کی ہمت پر اور جس طرح انہوں نے آخر تک لڑائی کی۔ مجھے اپنے ملک اور عوام کی امیدوں کے لیے بہت افسوس ہے۔عراق کو ورلڈ کپ میں ایک مشکل گروپ آئی میں رکھا گیا ہے، جہاں گروپ مرحلے میں اس کا مقابلہ 2022 ورلڈ کپ کے رنر اپ فرانس کے ساتھ ساتھ سینیگال اور ناروے سے ہوگا۔










