اراکین اسمبلی نے ایوان میں متعدد اہم عوامی مسائل اُٹھائے

اراکین اسمبلی نے ایوان میں متعدد اہم عوامی مسائل اُٹھائے

جموں//اراکین اسمبلی نے ایوان میں آج وقفہ صفر کے دوران متعدد اہم عوامی مسائل اُٹھائے اور ان کے حل کے لئے حکومت سے فوری مداخلت کی درخواست کی۔
رُکن اسمبلی پیارے لال شرما نے منریگا کے تحت 48 دن کی بقایا اُجرتوں کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا اور پی ایم اے وائی۔جی کے تحت سڑکوں کی تعمیر کے لئے این او سی اور جنگلاتی منظوریوں کے عمل کو تیز کرنے پر زور دیا۔
ممبر اسمبلی سجاد شاہین نے گول علاقے سے تعلق رکھنے والی ایک قبائلی لڑکی کا معاملہ اُٹھایا اور اس معاملے کے فوری اَزالے کا مطالبہ کیا۔
ایم ایل اے شوکت حسین گنائی نے خدمت سینٹر آپریٹرز کی تنخواہوں،وظائف کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 1, 200 کنبے متاثر ہو رہے ہیں اور انہیںریگولرائز کرنے کے لئے پالیسی بنانے کا مطالبہ کیا۔
رُکن قانون ساز اسمبلی خورشید احمد نے گرمیوں میں خانہ بدوش مویشیوں کی موسمی نقل مکانی کی اجازت، اپنے حلقے میں لاڈلی بیٹی سکیم کی توسیع اور آن لائن رجسٹریشن سے محروم یومیہ اُجرت والوں کے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا۔
ممبر قانون ساز اسمبلی حسنین مسعودی نے گزشتہ برس کے سیلاب سے متاثرہ کسانوں کے کے سی سی قرضے معاف کرنے کی مانگ کی۔
ایم ایل اے شگن پریہار نے ستار برج۔بٹ پورہ سڑک کی جلد تعمیر پر زور دیا۔
رکن اسمبلی ڈاکٹر راجیو کمار نے طبی عملے کی ہڑتال کا معاملہ اُٹھایا اور اُن کے مسائل کے فوری اَزالے کا مطالبہ کیا۔
ممبر اسمبلی رفیق نائیک نے ترال میں فروٹ منڈی کی جلد تعمیر، ریسرچ سینٹرکے قیام اور نجی سکولوں میں یونیفارم کی بار بار تبدیلی پر تشویش کا اِظہار کیا۔
ایم ایل اے جاوید ریاض بیدار نے حد بندیوں کے بعد ترقیاتی کاموں میں دائرہ اختیار کے تنازعات کو اُجاگر کیا۔
رُکن قانون ساز اسمبلی جاوید احمد مرچال نے بلاک میڈیکل اَفسران کو این او سی جاری کرنے کے اِختیارات دینے کا مطالبہ کیا۔
ممبر قانون ساز اسمبلی اِفتخار احمد نے کویت میں وفات پانے والے راجوری کے ایک شہری کی میت وطن واپس لانے کے لئے حکومت سے مداخلت کی درخواست کی۔
ایم ایل اے چودھری محمد اکرم نے میونسپل کمیٹی میں ایگزیکٹیو آفیسر کی خالی اسامی کو پُر کرنے کا مطالبہ کیا۔
رُکن اسمبلی سنیل بھرد واج نے حالیہ بارشوں سے والی بال کورٹ کو پہنچنے والے نقصان پر تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
ممبر اسمبلی اعجاز جان نے یومیہ اجرت پر کا م کرنے والے کیمپا کارکنوں کی تنخواہوں میں اضافہ کا مطالبہ کیا۔
ایم ایل اے ڈاکٹر شفیع احمد وانی نے جے وی سی ہسپتال کی تکمیل اور کمیونٹی ہیلتھ سینٹروں میں اضافی بلاکوں کی تعمیرکا مطالبہ کیا۔
رکن اسمبلی ہلال اکبر لون نے ٹرانسفارمرز کی تنصیب اور لفٹ اری گیشن منصوبوں کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا۔
ممبر اسمبلی سلمان ساگر نے اِس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر میں فلاحی سکیموں کی عمل آوری متعلقہ قانون سازوں کی مشاورت سے کیا جانا چاہئے۔
ایم ایل اے شکتی پریہار نے غیر فعال آبپاشی و فلڈ کنٹرول پروجیکٹوں کی بحالی کا مطالبہ کیا۔
رُکن قانون ساز اسمبلی آغا سیّدمنتظر مہدی نے سکیم کی عمل آوری کا جائزہ لینے کے لئے جے جے ایم ہاؤس کمیٹی کے دورے اورمقامی باشندوں کی رضامندی سے ویٹ لینڈ ڈیولپمنٹ کے لئے زمین کی حد بندی کرنے کا مطالبہ کیا۔
ممبر قانون ساز اسمبلی سرجیت سنگھ سلاتھیہ نے ضلع سانبہ میں پانی کے منصوبوں کے لئے فنڈز، عملہ اور ایس سی اے آر ڈِی بینک کے کھاتہ داروں کی رقوم جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔
ایم ایل اے الطاف احمد وانی (کلو)نے پہلگام میں منی سیکرٹریٹ کی تعمیر اور سیاحتی مقامات کو بند نہ کرنے پر زور دیا۔
رکن اسمبلی عبدالمجید بٹ ( لارمی ) نے قاضی گنڈ کے باغبانوں کو معاوضہ جلد جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔
ممبر اسمبلی شمیم فردوس نے نرسری اور یو کے جی طلبأکے لئے الگ الگ ٹائمنگ اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات کی ضرورت پر زور دیا۔
ایم ایل اے پیرزادہ فیروز احمد نے کے سی سی قرض معافی، لاڈلی بیٹی سکیم کی توسیع اور فائر سٹیشن کے قیام کا مطالبہ کیا۔
رُکن قانون ساز اسمبلی یدھ ویر سیٹھی نے سیلاب سے متاثرہ گھروں کے لئے معاوضہ اور ڈِگری کالج سدرہ میں تعمیراتی کاموں کا مطالبہ کیا۔
ممبر قانون ساز اسمبلی نریندر سنگھ رینہ نے پی او جے کے متاثرین کے لئے مالی اِمداد میں ایک سال کی توسیع کا مطالبہ کیا۔
ایم ایل اے اروند گپتا نے نے میڈیکل کالجوں کے ملازمین کے لئے سروس رول پالیسی بنانے کی اپیل کی۔
رکن اسمبلی چودھری ظفر علی کھٹانہ نے بکر وال اور گوجرکمیونٹیوں کے لئے مائیگریشن این او سی جاری کرنے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا۔
ممبر اسمبلی میاں مہر علی نے زوجیلہ ٹنل سے متاثرہ اَفراد کی بازآبادکاری اور دیگر مسائل اُٹھائے۔
ایم ایل اے تنویر صادق نے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ ایک ہفتے میں جاری کرنے اوروادی کشمیر میں موسمی حالات کے مطابق ترقیاتی کاموں کی منظوری کا مطالبہ کیا۔
رُکن قانون ساز اسمبلی ڈاکٹررامیشور سنگھ نے این ایچ ایم ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ اور اَساتذہ کی خالی اَسامیوں کو پُر کرنے کا مطالبہ کیا۔
ممبر قانون ساز اسمبلی میر محمد فیاض نے مختلف سرکاری اِداروں میں سربراہان کی خالی اَسامیوں کو پُرکرنے کا مطالبہ کیا۔
ایم ایل اے محمد یوسف تاریگامی نے رسوئی گیس سلنڈروں کی کمی پر تشویش کا اظہار کیااور غیر رجسٹرڈ صارفین کو رجسٹریشن کا موقعہ دینے کا مطالبہ کیا۔
رکن اسمبلی سیف الدین بٹ نے اِنجینئرنگ وِنگ کی خالی اَسامیوں کو پُر کرنے پر زور دیا۔
ممبر اسمبلی فاروق احمد شاہ نے ترقیاتی فنڈز کے کم استعمال پر ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔