کالا کوٹ ۔ سندر بنی میں پی ایچ اِی اور آئی اینڈ ایف سی کے کاموں میں اِضافہ دیکھنے کو مِلا

کالا کوٹ ۔ سندر بنی میں پی ایچ اِی اور آئی اینڈ ایف سی کے کاموں میں اِضافہ دیکھنے کو مِلا

جموں//وزیر برائے جل شکتی، جنگلات و ماحولیات اور قبائلی امور محکم ہجات جاوید احمد رانا نے ایوان کو آگاہ کیا کہ ضلع راجوری کے کالا کوٹ ۔سندربنی حلقہ میں یو ٹی کیپکس ، ایس ڈِی آر ایف، بی ڈِی سی، سی ڈِی ایف اور ڈِسٹرکٹ کیپکس جیسے مختلف فنڈنگ سکیموں کے تحت کاموں کی تکمیل میں نمایاں پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔اُنہوں نے اِن باتوں کا اِظہار آج رُکن اسمبلی رندھیر سنگھ کی طرف سے کالاکوٹ۔سندربنی حلقہ میں فنڈز کے اِستعمال سے متعلق اُٹھائے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کیا۔وزیرموصوف نے بتایا کہ یو ٹی کیپکس کے تحت 350.15 لاکھ روپے کی رقم جاری کی گئی جس میں سے اَب تک 107.18 لاکھ روپے کالاکوٹ۔سندربنی حلقہ کے پی ایچ ای جموں کے کاموں پر خرچ کئے جا چکے ہیں۔اُنہوںنے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ڈِسٹرکٹ کیپکس، سی ڈِی ایف، بی ڈِی سی اور ایس ڈِی آر ایف کے تحت 110.47 لاکھ روپے جاری کئے گئے ہیں اور تمام منظور شدہ کام مکمل ہو چکے ہیں۔وزیر جاوید رانانے ایوان کو آبپاشی و فلڈ کنٹرول (آئی اینڈ ایف سی) محکمہ کی جانب سے کالا کوٹ۔سندربنی حلقہ میں جاری کاموں کی صورتحال سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ متعدد منصوبے مختلف مراحل میں ہیں۔ اُنہوں نے بتایا کہ کالاکوٹ۔سندربنی حلقہ میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو پہنچنے والے نقصانات کی فہرست ضروری غور و خوض کے لئے محکمہ خزانہ کو پیش کی گئی ہے۔اُنہوںنے ایس اے ایس سی آئی تجاویز کے بارے میں کہاکہ آئی اینڈ ایف سی جموں کے تحت کالاکوٹ۔سندربنی حلقہ کے لئے 226.16 لاکھ روپے مالیت کے کام پیش کئے گئے ہیں۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ آئی اینڈ ایف سی جموں کے تحت کاموں کے لئے الگ تجاویز بھی محکمہ خزانہ کو پیش کی گئی ہیں۔وزیر موصوف نے متعلقہ رُکن اسمبلی کی طرف سے اُٹھائے گئے خدشات کے جواب میں کہا کہ حکومت تمام حلقہ جات میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لئے پُرعزم ہے۔اُنہوں نے کہا کہ حلقہ میں تمام منصوبوں کومتوازن طریقے سے شروع کیا جا رہا ہے اور کاموں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لئے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔وزیر جل شکتی نے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہر خطے کو یکساں بنیادوں پر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ترقیاتی اَقدامات عوامی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھ کر کئے جا رہے ہیں۔