جموں//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایوان کو مطلع کیا کہ’ پی ایم سوریہ گھر: مفت بجلی یوجنا ‘‘کے تحت کشمیر اور جموں پاور ڈِسٹری بیوشن کمپنیوں کے 4,288 صارفین کے حق میں 3.80 کروڑ روپے یو ٹی سبسڈی جاری کی گئی ہے۔وزیر اعلیٰ اس سکیم کے حوالے سے رُکن اسمبلی شکتی راج پریہار کی طرف سے اُٹھائے گئے سوال کا جواب دے رہے تھے۔وزیر اعلیٰ جن کے پاس محکمہ بجلی کا قلمدان بھی ہے، نے بتایا کہ سینٹرل فائنانشل اسسٹنس (سی ایف اے) کے مطابق کے پی ڈِی سی ایل کے اِبتدائی 2,053 صارفین کے حق میں 1.80 کروڑروپے جاری کئے گئے ہیں۔ اِسی طرح اِس سکیم کے تحت جے پی ڈِی سی ایل کے 2,235 اِستفادہ کنندگان کے حق میں 2 کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں۔اُنہوں نے ایوان کو آگاہ کیا کہ’ پی ایم سوریہ گھر: مفت بجلی یوجنا‘ کے تحت سبسڈی کا بڑا حصہ مرکزی حکومت کی طرف سے وزارتِ نئی و قابلِ تجدید توانائی کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے جبکہ اِضافی سبسڈی یو ٹی اِنتظامیہ کی جانب سے دی جاتی ہے۔سینٹرل فائنانشل اسسٹنس( سی ایف اے) گھریلو صارفین کو روف ٹاپ سولر سسٹم نصب کرنے کے لئے پہلے 2 کلوواٹ تک 33,000روپے فی کلوواٹ اور اگلے ایک کلوواٹ کے لئے 19,800روپے فی کلوواٹ کے حساب سے فراہم کی جاتی ہے جس سے 3 کلوواٹ تک کے سسٹمز کے لئے زیادہ سے زیادہ سبسڈی 85,800روپے بنتی ہے۔اِس کے علاوہ یو ٹی اِنتظامیہ 3,000روپے فی کلوواٹ سبسڈی فراہم کرتی ہے یعنی 2 کلوواٹ کے لئے 6,000روپے اور 3 کلوواٹ (3کلوواٹ کی حد تک) کے لئے زیادہ سے زیادہ 9,000روپے جس سے 3 کلوواٹ کے سسٹم کے لئے کل سبسڈی 94,800روپے تک پہنچ جاتی ہے۔وزیر اعلیٰ نے مزید بتایا کہ جہاں کہیں یو ٹی کے حصے کی ادائیگی میں تاخیر ہوئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ مستفیدین کی تنصیبات کی تصدیق، متعلقہ دستاویزات کی جانچ اور قومی پورٹل کے ذریعے سبسڈی کی تقسیم کے انضمام کی وجہ سے ہے۔اُنہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اِنتظامیہ اس عمل کو ہموار کرنے کیلئے ضروری اقدامات کر رہی ہے اور یقین دلایا کہ زیر التوأیوٹی سبسڈی کا حصہ تصدیق کی رسمی کارروائیوں کی تکمیل کے بعد اہل مستفیدین کو جاری کیاجائے گا۔










