محکمہ ہیندی کرافٹس و ہیند لوم کشمیر پشمینہ لیب میں ایس اِی ایم پر مبنی ٹیسٹنگ متعارف کرے گا

محکمہ ہیندی کرافٹس و ہیند لوم کشمیر پشمینہ لیب میں ایس اِی ایم پر مبنی ٹیسٹنگ متعارف کرے گا

ٹیسٹنگ کی شرح کو بڑھانے کیلئے مزید تین ہائی ریزولوشن ڈیجیٹل مائیکروسکوپس خریدے گئے

سری نگر//ڈائریکٹورٹ آف ہینڈ ی کرافٹس اینڈ ہینڈ لوم کشمیرنے پشمینہ ٹیسٹنگ اینڈ کوالٹی سرٹیفکیشن سینٹر (پی ٹی کیو سی سی ) کو فائبر تجزیے کے ایک بہترین مرکز کے طور پر فروغ دینے کے لئے ایک اہم پیش رفت میںایک اعلیٰ معیار کا سکیننگ الیکٹران مائیکروسکوپ (ایس اِی ایم) حاصل کیا ہے۔اِس اَقدام کا مقصد پشمینہ اور دیگر ہاتھ سے بنے ہوئے مصنوعات کی جی آئی ٹیسٹنگ اور سرٹیفکیشن میں عالمی معیار حاصل کرنا ہے۔اِس کے علاوہ محکمہ نے پی ٹی کیو سی سی ، آئی آئی سی ٹی کے کارپٹ لیبارٹری اور نئی قائم شدہ کوالٹی کنٹرول لیبارٹری کے لئے تین ہائی ریزولوشن ڈیجیٹل مائیکروسکوپس بھی حاصل کئے ہیں۔ اِن اِضافہ جات سے ٹیسٹنگ کی صلاحیت میں اضافہ، اِنتظار کے وقت میں کمی اور جی آئی کے مجاز صارفین، کاروباری شراکت داروں اور کاریگر کمیونٹی کے دیرینہ مطالبات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ڈائریکٹوریٹ آف ہینڈی کرافٹس اینڈ ہینڈ لوم کشمیر کے ترجمان کی طرف سے جاری کردہ پریس بیان کے مطابق ایس اِی ایم پر مبنی ٹیسٹنگ فائبر کے درست تجزیے کو مزید بہتر بنائے گی اور اصل کشمیر شال اور دیگر فائبرز کے درمیان درست فرق کو آسان بنائے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ’یہ پیش رفت خالص پشمینہ مصنوعات کی اصلیت کے تحفظ میں مدد دے گی اور کاریگروں و تاجروں کو غلط بیانی اور سستی جعلی اشیأ سے بچائے گی جو کشمیر کی اصل ہاتھ سے بنی مصنوعات کے نام پر فروخت کی جاتی ہیں‘۔اُنہوں نے اِس موقعہ پروزارت ٹیکسٹائلز کا لیبارٹری انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے میں بھرپور تعاون پر شکریہ اَدا کیا۔وزارت ٹیکسٹائلز کے نیشنل ہینڈیکرافٹس ڈیولپمنٹ پروگرام کے’ٹیکنالوجی سپورٹ‘ جزو کے تحت حاصل کئے گئے ایس اِی ایم کا تعارف کشمیر کی بہترین ٹیکسٹائل ورثے بالخصوص پشمینہ اور کانی شالوں کی اصلیت، معیار کی یقین دہانی اور عالمی ساکھ مزید مستحکم ہوگی۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ نئے آلات سے لیبارٹری میں مختلف نامیاتی اور غیر نامیاتی مواد کی جانچ کی بھی اِجازت ہوگی۔اِسی طرح پی ٹی کیو سی سی ، آئی آئی سی ٹی اور کوالٹی کنٹرول لیبارٹریوں میں ہائی ریزولوشن ڈیجیٹل مائیکروسکوپس کا تعارف سے ٹیسٹنگ کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوگا اور نتائج حاصل کرنے کا وقت مزید کم ہوگا جو جی آئی کے مجاز صارفین اور کاریگر کمیونٹی کا ایک اہم مطالبہ رہا ہے۔کشمیر میں اس وقت پندرہ جی آئی رجسٹرڈ دستکاریاں موجود ہیںجن میں اعلیٰ معیار کے ہاتھ سے بنے قالین، پشمینہ، کانی، ٹوئیڈ، سوزنی کڑھائی، چین سٹیچ، وگگو، گبہ اور نمدہ شامل ہیںجبکہ غیر ٹیکسٹائل دستکاریوں میں ووڈ کارونگ اور پیپر ماشی بھی شامل ہیں ۔اُنہوںنے مزید کہا کہ مزید چھ دستکاریوں کی دستاویزات تیار کی جا چکی ہیں اور انہیں جلد ہی رجسٹریشن کے لئے جی آئی رجسٹری چنئی میں جمع کیاجائے گا۔