بڑوانی؍کھرگون/یو این آئی// مدھیہ پردیش کے بڑوانی اور کھرگون اضلاع میں انتظامیہ کی اپیل کے باوجود پٹرول پمپوں پر ایندھن کیلئے گاڑی چلانے والوں کی بھیڑ برقرار رہی۔ اس دوران بڑوانی ضلع کے جلوانیا میں واقع ایک پٹرول پمپ پر تنازعہ کے باعث ایک گاڑی چلانے والے نے پولیس کانسٹیبل سے مارپیٹ کر دی۔پولیس ذرائع کے مطابق جولوانیا تھانہ انچارج رام کمار پاٹل نے بتایا کہ آگرہ-ممبئی قومی شاہراہ بائی پاس پر پٹرول بھرانے آئے ایک نوجوان کو لائن میں لگنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ اس دوران کانسٹیبل اکھلیش نے اس کی موٹر سائیکل ہٹائی، جس سے تنازعہ بڑھ گیا۔ ملزم نے موٹر سائیکل گرنے پر ٹنکی کا ڈھکن پھینک کر کانسٹیبل کے چہرے پر مارا، جس سے وہ زخمی ہو گیا۔ واقعہ کے بعد ملزم نوجوان اپنی دو پہیہ گاڑی چھوڑ کر موقع سے فرار ہو گیا۔ پولیس نے معاملہ درج کرکے اس کی تلاش شروع کر دی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ضلع میں آج ایک لاکھ پانچ ہزار لیٹر پٹرول اور ایک لاکھ دس ہزار لیٹر ڈیزل کی نئی کھیپ موصول ہوئی ہے ۔ فی الحال 112 فعال پٹرول پمپوں پر تقریباً پانچ لاکھ تینتیس ہزار لیٹر پٹرول اور پانچ لاکھ پچیس ہزار لیٹر ڈیزل کا اسٹاک دستیاب ہے ۔
پٹرول کی کھپت ایک لاکھ ستر ہزار لیٹر اور ڈیزل کی کھپت ایک لاکھ چھیانوے ہزار لیٹر بتائی گئی ہے ۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ کھلے برتنوں میں ایندھن نہیں دیا جائے گا اور لوگوں سے افواہوں پر دھیان نہ دینے کی اپیل کی ہے ۔










