لیفٹیننٹ گورنر نے اُن سرکاری ملازمین کے لواحقین کو بھی تقریری نامے دئیے جو ڈیوٹی کے دوران اَپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے
جموں// لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے پیر کے روز کنونشن سینٹر جموں میں دہشت گردی کے 37 متاثرین کے اہلِ خانہ کو تقرری نامے سونپے۔اِسی طرح تقریباً 29 سرکاری ملازمین کے لواحقین جو خدمات انجام دیتے ہوئے جاں بحق ہوئے اور عمر میں رعایت کے مقدمات سے مستفید ہونے والے اَفراد کو بھی جموں و کشمیر رِی ہیبلی ٹیشن اسسٹنس سکیم ۔2022 اور ایس آر او 43 کے تحت تقرری نامے دئیے گئے۔اُنہوں نے دہشت گردی متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے دہشت گردی کے نیٹ ورک اور اس کے حامیوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کا عزم کیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’میں دہشت گردی متاثرین کنبوں سے وعدہ کرتا ہوں کہ ہم اُن کی باوقار اور باعزت زِندگی محفوظ بنانے کے لئے پوری عزم کے ساتھ کام کریں گے ۔ہم اُن کے تئیں ہر ذِمہ داری کو اِنتہائی سنجیدگی سے اَدا کریں گے جب تک ہر کنبے کو اِنصاف نہیں مل جاتا۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے متاثرہ کنبوں کے ساتھ اِنصاف صرف سزاؤں تک محدود نہیں ہے بلکہ زخموں پر مرہم اور وقار کی بحالی بھی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے کہا،’’اِنصاف بھی ان کہانیوںمیں مضمر ہے جن کو معاشرہ یاد کرنے کا انتخاب کرتا ہے۔ اِنصاف کا مطلب غمزدہ کنبوںکے آنسو پونچھنا، اُن کے درد کو تسلیم کرنا اور اُن کی روحوں پر لگے زخموں کو مندمل کرنا بھی ہے۔ اِنصاف کا مطلب یہ بھی ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ کنبوںکی وہ کہانیںجو کبھی فراموش ہو گئی تھیں، اَب نئی یاد اور عزت کے ساتھ دوبارہ رقم کی جا رہی ہیں۔اُنہوں نے کہا،’’آج جموں و کشمیر ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ جموںوکشمیر یوٹی کے نوجوان اور دہشت گردی سے متاثرہ کنبے روشن مستقبل کے خواہاں ہیں اور بہتر زِندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ یہ ہماری مشترکہ ذِمہ داری ہے کہ ہم اس مستقبل کو حقیقت بنائیں اور انہیں وہ مواقع فراہم کریں جن کے وہ مستحق ہیں۔‘‘منوج سِنہا نے دہشت گردی کے نیٹ ورک کے باقی ماندہ عناصر کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا دور ختم ہو چکا ہے۔اُنہوں نے کہا،’’جموں و کشمیر کے لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ ایسے دہشت گرد عناصر کو کس نے ڈھال بنایا، لیکن وہ ڈھال اَب ٹوٹ رہی ہے۔ میں اُنہیں خبردار کرتا ہوں کہ اَب جموں و کشمیر میں دہشت گردوں یا ان کی حمایت کرنے والے نیٹ ورکس کے لئے کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں رہی۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہر دہشت گردی سے متاثرہ کنبے کو اِنصاف، روزگار، پہچان اور مدد فراہم کی جائے گی جو وہ برسوں کی تکالیف کے بعد مستحق ہیں۔اُنہوں نے کہا،’’دہشت گردی سے متاثرہ کنبے دہائیوں تک معاشرے کی یادوں سے مٹتے رہے۔ ان تمام داستانوں میں سب سے زیادہ دردناک، تکلیف دہ اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ ان کنبوں کو اسی نظام نے نظرانداز کیا جن کا فرض اور بنیادی ذِمہ داری انہیں تحفظ فراہم کرنا تھا۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’میں اسے صرف اِنتظامی کوتاہی نہیں بلکہ اس وقت کی ایک تہذیبی ناکامی سمجھتا ہوں۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے متاثرہ کنبوں کو دہشت گردی کے نیٹ ورک کے عناصر نے ہراساں کیا اور یہ صورتحال محض نااِنصافی نہیں بلکہ سماجی اخلاقیات کے مکمل خاتمہ کی علامت تھی۔منوج سِنہا نے کہا،’’معاشرے کے بزرگوں کو اَپنے آپ سے کچھ مشکل سوالات پوچھنے چاہئیںکہ چند دہائیوں پہلے ہم کس قسم کے معاشرے بن چکے تھے؟ جموں و کشمیر کیسے اس نہج پر پہنچا جہاں متاثرہ فرد بوجھ بن گیا اور دہشت گردی سے جُڑے لوگ فائدہ اُٹھانے والے بن گئے؟‘‘اُنہوں نے کہا،’’مجھے یقین ہے کہ یہ سوالات ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑکر رکھ دیں گے کیوں کہ اِس طرح کے طرزِ عمل نے معاشرے کی ہر اس قدر کو کھوکھلا کر دیا ہے جو اِنصاف کی بنیاد ہوتی ہے۔ اِس طرح کی تاریکی نے قانون، اعتماد اور بقائے باہمی کی روح کوبجھا دیا تھا۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جو لوگ دہشت گردی کے اِس نیٹ ورک کا حصہ رہے اور ماضی میں سرکاری نظام میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے، اُنہیں قانون کا سامنا کرنا پڑے گا اور انہیں منظم طریقے سے سرکاری ملازمتوں سے ہٹایا جائے گا اور قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔اُنہوں نے کہا،’’جو اَفراد براہِ راست دہشت گردی سے جُڑے ہیں انہیں ملازمتوں سے برطرف کیا جا رہا ہے جبکہ دہائیوں سے نظرانداز کئے گئے متاثرہ کنبوں کو سرکاری ملازمتیں دی جا رہی ہیں تاکہ اُن کی معاشی و سماجی عزت بحال ہو سکے۔ میں اسے محض پالیسی کی اِصلاح نہیں بلکہ نئے جموں و کشمیر کے لئے ایک اخلاقی اعلان سمجھتا ہوں۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ،’’یہ ایک واضح پیغام ہے کہ ایک نیا نظام آ چکا ہے جو دہشت گردی سے جُڑے اَفراد کو بے رحمی سے سزا دے گا اور متاثرین کی عزت بحال کرنے کے لئے اَپنی ذِمہ داریاں پورا کرے گا۔ یہ اَخلاقی اعلان ایسے نظام کی نوید ہے جو اِنصاف کو صرف الفاظ میں نہیں بلکہ عمل میں بھی ظاہر کرتا ہے۔‘‘اِس موقعہ پرلیفٹیننٹ گورنر کے پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر مندیپ کے بھنڈاری، کمشنر سیکرٹری جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ ایم راجو، صوبائی کمشنر جموں رمیش کمار، ضلع ترقیاتی کمشنر جموں ڈاکٹر راکیش منہاس، سینئر اَفسران، مختلف سماجی تنظیموں کے اراکین اور دہشت گردی متاثرین کے اہل خانہ بھی موجود تھے۔










