7برسوں بعد جامع مسجد سرینگر میں جمعتہ الوداع نماز کی ادائیگی،ہر سو لوگوں کا اژدھام
سرینگر//یو این ایس / وادی کشمیر میں ماہِ مقدس رمضان المبارک کے آخری جمعہ جمتہ الوداع کو عقیدت و احترام کے ساتھ ادا کیا گیا، جہاں مساجد، خانقاہوں اور درگاہوں میں ہزاروں فرزندانِ اسلام نے نماز جمعہ ادا کر کے امتِ مسلمہ کی فلاح، امن و سلامتی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں مانگیں۔سرینگر سمیت وادی کے مختلف اضلاع میں صبح سے ہی مساجد میں نمازیوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔ شہر کی مرکزی عبادت گاہوں میں روح پرور مناظر دیکھنے کو ملے جہاں عقیدت مندوں کی بڑی تعداد نے عبادات میں شرکت کی۔یو این ایس کے مطابق اس موقع پر تاریخی اور اہم مذہبی مقامات بشمول درگاہ حضرت بل، خانقاہِ معلیٰ، زیارت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ، چرار شریف، مخدوم صاحب سرینگر، آثار شریف پنجورہ، جناب صاحب صورہ، حضرت سید یعقوب صاحب سونہ وار، بابا ریشی ٹنگمرگ اور حضرت زین الدین ریشیؒعشمقام میں ہزاروں نمازیوں نے جمعتہ الوداع کی نماز ادا کی۔درگاہ حضرت بل میں خاص طور پر عقیدت مندوں کا بڑا اجتماع دیکھنے کو ملا، جہاں لوگ صبح سویرے ہی مختلف علاقوں سے پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔ نماز جمعہ کے بعد اجتماعی دعاوں میں خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔انتظامیہ کی جانب سے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ درگاہوں اور حساس مقامات کے اطراف پولیس اور سیکورٹی فورسز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی جبکہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے بھی خصوصی اقدامات کیے گئے۔وادی کشمیر میں ایک اہم اور تاریخی پیش رفت کے تحت سات برس کے طویل وقفے کے بعد جامع مسجدمیں جمعتہ الوداع کی نماز ادا کی گئی، جس میں ہزاروں فرزندانِ اسلام نے شرکت کی۔رمضان المبارک کے آخری جمعہ کے موقع پر سرینگر اور ملحقہ علاقوں سے آئے عقیدت مندوں کی بڑی تعداد نے تاریخی جامع مسجد میں نماز ادا کی، جس سے پورا علاقہ روحانی ماحول میں ڈوب گیا۔ نمازیوں نے اس موقع کو ایک طویل انتظار کے بعد حاصل ہونے والا تاریخی لمحہ قرار دیا۔نماز کے پْرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ جامع مسجد اور اس کے اطراف سیکورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات رہی جبکہ لوگوں کی آمد و رفت کو منظم انداز میں کنٹرول کیا گیا تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔تمام تر سیکورٹی انتظامات کے باوجود نماز پْرامن طور پر اختتام پذیر ہوئی اور لوگوں نے اس موقع پر امن، خوشحالی اور استحکام کے لیے خصوصی دعائیں مانگیں۔ادھر علما و خطباء نے اپنے خطبات میں رمضان المبارک کی برکتوں، تقویٰ، صبر اور انسانیت کی خدمت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے زور دیا کہ اس مقدس مہینے کی روح کو سال بھر برقرار رکھا جائے۔قابلِ ذکر ہے کہ مفتی اعظم جموں و کشمیر مفتی ناصر الاسلام نے پیشگی اعلان کیا تھا کہ امسال جمعتہ الوداع 23 رمضان کو ادا کیا جائے گا کیونکہ 20 مارچ کو عیدالفطر ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا۔ تاہم، گزشتہ روز چاند نظر نہ آنے کے باعث عیدالفطر اب پیر کے روز منائی جائے گی، جس کے ساتھ ہی یہ جمعہ رمضان المبارک کا آخری جمعہ قرار پایا۔دریں اثنا، جمعتہ الوداع کے موقع پر مساجد کے اطراف اور ملحقہ بازاروں میں بھی خاصی چہل پہل دیکھنے کو ملی۔ نماز کے بعد لوگ بڑی تعداد میں بازاروں کا رخ کرتے ہوئے نظر آئے جہاں عیدالفطر کی تیاریوں کے سلسلے میں کپڑوں، جوتوں، خشک میوہ جات اور مٹھائیوں کی خریداری عروج پر رہی، جس سے بازاروں میں غیر معمولی رونق دیکھی گئی۔علما نے اپنے خطبات اور دعاوں میں عالم اسلام میں امن و استحکام، بھائی چارے کے فروغ اور مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے بھی خصوصی دعائیں کیں۔










