256 دیگر فوجداری مقدمات اور 6,617 ریمانڈ معاملات نمٹائے گئے
سرینگر/ یو این ایس//جموں و کشمیر میں قانونی امداد کے نظام نے سال 2025 کے دوران غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انصاف تک رسائی کو وسیع اور مؤثر بنایا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق لاکھوں افراد کو اس نظام کے ذریعے نہ صرف فوری انصاف ملا بلکہ تنازعات کے بروقت حل اور قانونی بیداری کو بھی فروغ حاصل ہوا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے دوران قانونی امداد کیلئے 701 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 129 کو باقاعدہ رجسٹر کیا گیا جبکہ صرف 22 کیس زیر التوا ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ نظام تیزی سے درخواستوں پر کارروائی کر رہا ہے اور تاخیر کو کم سے کم رکھا جا رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق اس کامیابی کے مرکز میں لیگل ایڈ ڈیفنس کونسل سسٹم ہے، جو جموں و کشمیر کے تمام اضلاع میں فعال ہے۔ یہ نظام فوجداری مقدمات میں ابتدائی مرحلے سے لے کر اپیل تک مفت قانونی خدمات فراہم کرتا ہے، جس کا مقصد مستحق افراد کو معیاری اور پیشہ ورانہ قانونی معاونت فراہم کرنا ہے۔سال کے دوران اس نظام کے تحت 131 سیشنز کیس، 256 دیگر فوجداری مقدمات اور 6,617 ریمانڈ معاملات نمٹائے گئے۔ اسی طرح ضمانت کی درخواستوں پر بھی مؤثر کارروائی کی گئی، جن میں 512 درخواستیں دفعہ 437، 104 دفعہ 438 اور 301 دفعہ 439 کے تحت شامل ہیں، جس سے ضرورت مند افراد کو بروقت قانونی نمائندگی میسر آئی۔555 وکلائپر مشتمل پینل نے بھی اہم کردار ادا کرتے ہوئے 687 مقدمات نمٹائے، جبکہ 579 پیرا لیگل رضاکاروں اور 256 لیگل ایڈ کلینکس کے نیٹ ورک نے 36,966 مستفیدین کو سہولیات فراہم کیں، خاص طور پر دیہی اور پسماندہ علاقوں میں قانونی خدمات کو فروغ دیا گیا۔یو این ایس کے مطابق لوک عدالتوں کی کارکردگی اس نظام کی ایک نمایاں کامیابی رہی، جہاں 2025 کے دوران منعقدہ چار قومی لوک عدالتوں میں 6,55,754 مقدمات نمٹائے گئے، جن میں 3,51,333 پری لٹیگیشن اور 3,04,421 پوسٹ لٹیگیشن کیسز شامل ہیں۔ ان مقدمات کے تصفیے کے نتیجے میں تقریباً 246 کروڑ روپے سے زائد کی رقم طے پائی۔ مزید برآں، سال بھر منعقد ہونے والی خصوصی اور جنرل لوک عدالتوں نے بھی ہزاروں مقدمات نمٹا کر عدالتوں پر بوجھ کم کیا۔ قانونی امداد کے اس نظام سے معاشرے کے کمزور طبقات کو خاص فائدہ پہنچا، جن میں خواتین، بچے، زیر حراست افراد، معذور افراد اور کم آمدنی والے شہری شامل ہیں۔قانونی بیداری کے فروغ کیلئے پورے خطے میں 4,908 پروگرامز منعقد کیے گئے، جن سے ڈھائی لاکھ سے زائد افراد مستفید ہوئے۔ اس کے علاوہ 206 لیگل لٹریسی کلبز قائم کیے گئے، جبکہ ہائی کورٹ اور ضلعی سطح پر 22 فرنٹ آفسز بھی قائم کیے گئے ہیں تاکہ شہریوں کو ایک ہی جگہ پر قانونی رہنمائی اور سہولیات فراہم کی جا سکیں۔متاثرین کی معاونت کیلئے وکٹم کمپنسیشن اسکیم کے تحت 16 افراد کو 38 لاکھ روپے سے زائد کی امداد بھی فراہم کی گئی، جو حکومت کی جانب سے متاثرہ افراد کی مدد کیلئے سنجیدہ کوششوں کا مظہر ہے۔مجموعی طور پر یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں قانونی امداد کا نظام ایک منظم، مؤثر اور عوام دوست فریم ورک کے طور پر ابھر رہا ہے، جہاں انصاف کی بروقت اور مساوی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے تمام ادارے مربوط انداز میں کام کر رہے ہیں۔










