گوشت کی قیمتوں میں از خوداضافہ صارفین کے مفادات پامال

گوشت کی قیمتوں میں از خوداضافہ صارفین کے مفادات پامال

عیدالفطر کے بعد تمام فریقین کا اجلاس طلب کیا جائے گا// کشمیر اکنامک الائنس

سرینگر/یو این ایس/ کشمیر اکنامک الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈارنے وادی میں گوشت کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے حوالے سے جاری تنازعہ کو قصائیوں اور تھوک فروشوں کے درمیان ’’ڈرامہ بازی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کو غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سن 2021 میں کشمیر اکنامک الائنس نے قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے مداخلت کی تھی، تاہم نرخوں کی ڈی ریگولیشن کے بعد قصاب یونین نے تجارتی تنظیم سے مشاورت کا سلسلہ بند کر دیا۔یو این ایس کے مطابق فاروق احمد ڈار کا کہنا تھا کہ اگر نئے نرخ طے کرتے وقت تھوک فروشوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تو انہیں چاہیے کہ وہ سامنے آ کر اپنی پوزیشن واضح کریں تاکہ بازار میں پھیلنے والی بے یقینی اور الجھن کو دور کیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ عیدالفطر کے بعد کشمیر اکنامک الائنس کی جانب سے قصائیوں، تھوک فروشوں اور دیگر تاجر تنظیموں پر مشتمل تمام متعلقہ فریقوں کا ایک مشترکہ اجلاس طلب کیا جائے گا جس میں اس معاملے پر تفصیلی غور و خوض کیا جائے گا۔ان کے مطابق اس اجلاس کا مقصد کسی بھی ممکنہ گٹھ جوڑ کو روکنا ہے جو عوامی مفادات کے خلاف ہو سکتا ہے، اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ صارفین کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے۔فاروق احمد ڈار نے زور دے کر کہا کہ کشمیر میں گوشت کوئی تعیش کی چیز نہیں بلکہ روزمرہ خوراک کا ایک اہم جزو ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ منسوخ شدہ قانون کو دوبارہ بحال کیا جائے تاکہ صارفین کے مفادات کا تحفظ ممکن ہو سکے اور قیمتوں کو مناسب طریقے سے منظم کیا جا سکے۔