لیفٹیننٹ گورنر نے صوبہ کشمیر کے دہشت گردی کے متاثرین کے اہل خانہ کو تقرری نامے تقسیم کئے

لیفٹیننٹ گورنر نے صوبہ کشمیر کے دہشت گردی کے متاثرین کے اہل خانہ کو تقرری نامے تقسیم کئے

دہشت گردی کے متاثرین کے اہل خانہ کو اِنصاف فراہم کرنے کی ہماری مہم نے ان کے کل کو نئی اُمید بخشی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر

سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے اتوار کے روز لوک بھون سری نگر میں دہشت گردی کے متاثرین کے 27 لواحقین کو تقرری نامے تقسیم کئے۔اِس موقعہ پر جموں و کشمیر بحالی اِمدادی سکیم ۔2022 اور ایس آر او۔ 43 کے تحت وفات پا چکے سرکاری ملازمین کے 22 لواحقین کو بھی تقرری نامے دئیے گئے۔لیفٹیننٹ گورنر نے ہر دہشت گردی کے متاثرکنبے کو اِنصاف دِلانے کے اَپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ زیرِاِلتوأ مقدمات دوبارہ کھولے جائیں گے تاکہ مجرموں کو جوابدہ بنایا جا سکے۔اُنہوں نے شہری شہدأ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ کئی دہائیوں تک دہشت گردوں کی گولیوں سے شہید ہوئے ہمارے غریب اور کمزور بھائی بہنوں کے اہل خانہ اِنصاف کی اُمید پر قائم رہے۔ اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ برس بارہمولہ سے شروع کی گئی مہم نے ان کنبوں کو سہارا، حوصلہ اور نیا اعتماد فراہم کیا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’دہشت گردی کے متاثرین کے کنبوں کو اِنصاف فراہم کرنے کی ہماری مہم نے ان کے کل کو نئی اُمید دی ہے۔ ہم نااِنصافی کے سائے کو دور کرنے اور دہشت گردی کے متاثر ہ کنبوںکی دہلیز تک اِنصاف پہنچانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اَب تک تقریباً 400 قریب اَفراد کو روزگار فراہم کیا جا چکا ہے اور یہ عمل اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک ہر متاثر کنبے تک اِنصاف نہ پہنچ جائے۔‘‘اُنہوںنے کہا کہ یہ محض کاغذات پر دستخط کرنے، فا ئلیں بدلنے یا اَسامیوں کو پُرکرنے کی اِنتظامی کارروائی نہیں ہے بلکہ اِنصاف کے لئے ایک گہرا عزم ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’میری کوشش رہی ہے کہ دہشت گردی سے متاثر کوئی بھی کنبہ نظر انداز نہ ہو اور نہ ہی عوامی یا سرکاری توجہ سے اوجھل ہو جائے۔ میں ان تقرری ناموں کو حقیقی اِنصاف سمجھتا ہوں اور آج کی تقریب اسی کی زندہ مثال ہے۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سے چھ برسوں میں وزیر اعظم نریندر مودی کی رہنمائی میں کئی اہم اقدامات کئے گئے جن کا مقصد ایک ایسا جموں و کشمیر تعمیر کرنا ہے جو ماضی کے دُکھوں سے آزاد اور خود اعتمادی سے بھرپور ہو۔منوج سِنہا نے کہا،’’اگست 2020 ء میں ،میں نے یہ نظریۂ پیش کیا تھا کہ ایک ایسا جموں و کشمیر تعمیر کیا جائے جو اپنے خوابوں کی بلندیوں سے اپنی طاقت کا اندازہ لگائے اور ایسا نظام قائم کیا جائے جو سماجی اِنصاف، وقار اور مساوی مواقع پر مبنی ہو۔‘‘اُنہوںنے پرنسپل سیکرٹری داخلہ کو ہدایت دی کہ دہشت گردی کے متاثرین کی املاک پر ناجائز قبضوں سے متعلق معاملات کا جامع جائزہ لیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’میں بارہا یہ یقین دہانی کرچکا ہوں کہ دہشت گردی سے متاثر کنبوں کی زمینیں یا مکانات جو زبردستی چھین لئے گئے ہیں، انہیں واپس دِلایا جائے گا اور جو معاملات ابھی تک تحقیق کے مراحل سے نہیں گزرے ان کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں گی۔‘‘اُنہوں نے اِس بات پر بھی زور دیا کہ اِنتظامیہ دہشت گردی سے متاثرہ اَفراد کی بحالی کے لئے پُرعزم ہے۔لیفٹیننٹ گورنرنے کہا،’’بہت سے ایسے متاثرین ہیں جنہوں نے اپنی بینائی کھو دی ہے یا شدید معذوری کے ساتھ زِندگی گزار رہے ہیں۔ ان کی بحالی کے لئے ایک مضبوط لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ اِنتظامیہ نے دہشت گردی کے متاثرین کو ضروری رہائش اور دیگر مدد فراہم کرنے کے لئے بھی ایک ٹائم لائن تیار کی ہے۔‘‘اُنہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اتحاد کو برقرار رکھیں اور علیحدگی پسند عناصر کی کوششوں کو ناکام بنائیں۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے کہا،’’ وزیر اعظم کے ‘دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس’ کے اصول پر عمل کرتے ہوئے اِنتظامیہ، پولیس اور سیکورٹی فورسز دہشت گردی کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لئے فیصلہ کن کارروائیاں کر رہی ہیں۔ ہمیں ایسے عناصر سے ہوشیار رہنا ہوگا جو فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہمیں تقسیم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم سب ہندوستانی ہیں اور ملک کے امن اور ترقی کے لئے کام کرنا ہماری اِجتماعی ذِمہ داری ہے۔ حکام اور شہریوں کو سرکاری اِداروں پر اعتماد مضبوط بنانے کے لئے مِل کر کام کرنا چاہیے۔‘‘اِس موقعہ پر پرنسپل سیکرٹری داخلہ چندرکر بھارتی، لیفٹیننٹ گورنر کے پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر مندیپ کے بھنڈاری، کمشنر سیکرٹری جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ ایم راجو، آئی جی پی کشمیر وی کے بردی، ضلع ترقیاتی کمشنر سری نگر اکشے لابرو، ایس ایس پی سری نگر ڈاکٹر جی وی سندیپ چکرورتی،چیئرمین سیو یوتھ سیو فیوچر فاؤنڈیشن وجاہت فاروق بٹ، فاؤنڈیشن کے دیگر اراکین، سینئر اَفسران، مختلف سماجی تنظیموں کے نمائندگان اور دہشت گردی کے متاثرین کے اہل خانہ بھی موجود تھے۔