چیف سیکرٹری نے زمینی ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن سے متعلق اہم اقدامات کا جائزہ لیا

چیف سیکرٹری نے زمینی ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن سے متعلق اہم اقدامات کا جائزہ لیا

جموں//چیف سیکرٹری اَتل ڈولونے ڈیجیٹل اِنڈیا لینڈ ریکارڈز ماڈرنائزیشن پروگرام (ڈِی آئی آر ایم پی)، سوامتوا (ایس وِی اے ایم آئی ٹی وِی اے)، یونیک لینڈ پارسل آئیڈنٹیفکیشن نمبر (یو ایل پی آئی این) اور نیشنل جیو سپیشل نالیج بیسڈ لینڈ سروے آف اربن ہیبی ٹیشنز (این اے کے ایس ایچ اے) کے تحت جاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لینے کے لئے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری شالین کابرا، سیکرٹری ریونیو ڈیپارٹمنٹ کمار راجیو رنجن، جموں و کشمیر کے صوبائی کمشنران اور ضلع ترقیاتی کمشنروںنے اَپنے اَپنے ڈِسٹرکٹ ہیڈکوارٹروںسے بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ شرکت کی جبکہ دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔اِس موقعہ پرچیف سیکرٹری نے خطاب کرتے ہوئے زمینی ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن سے متعلق ان اقدامات کی انقلابی صلاحیت کو اُجاگر کرتے ہوئے انہیں ہندوستان کی کامیاب ڈیجیٹل انقلابات سے تشبیہ دی۔ اُنہوں نے کہا ،’’یہ اقدامات طرزِ حکمرانی میں ویسا ہی انقلاب لائیں گے جیسا کہ یو پی آئی اور دیگر بڑے پروگراموں مثلاً ایگری سٹیک نے لایا ہے۔ ہم ایک تکنیکی انقلاب کے دور سے گزر رہے ہیں اور جموں و کشمیر کو اس میں فعال اور نمایاں کردار ادا کرنا چاہیے۔‘‘اُنہوں نے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچانے والے اس ڈیجیٹائزیشن عمل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوامی شکایات کی ایک بڑی تعداد زمین سے متعلق مسائل پر مبنی ہوتی ہے اور جیسے جیسے ڈیجیٹائزیشن مکمل ہوگی، ان مسائل کا مؤثر حل ممکن ہو سکے گا۔اُنہوں نے کہا ،’’یہ لوگوںکے لئے ایک بڑی خدمت ہے۔ اس سے لوگوں کو بہت زیادہ سہولیت حاصل ہوگی اور ترقی و حکمرانی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔‘‘اِس موقعہ پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری (فائنانشل کمشنر ریونیو ) شالین کابرا نے بھی لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن کو شفاف، مؤثر اور عوام دوست طرزِ حکمرانی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس اقدام سے زمین کے ریکارڈ تک رسائی، درستگی اور اعتباریت میں نمایاں بہتری آئے گی جس سے تنازعات میں کمی اور محکمہ مال پر عوام کا اعتماد مضبوط ہوگا۔اُنہوں نے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹائزڈ ریکارڈ کو غلطیوں سے پاک اور مستند بنانے کے لئے سخت معیار کی جانچ لازمی ہے۔ اُنہوں نے نچلی سطح کے تمام ریونیو افسران کو تاکید کی کہ وہ پوری ذِمہ داری اور احتیاط کے ساتھ کام کریں تاکہ مستقبل کے لئے ایک مضبوط اور قابل اعتماد الینڈ ریکارڈ نظام قائم کیا جا سکے۔اِنتظامی سیکرٹری ریونیو کمار راجیو رنجن نے ڈی آئی ایل آر ایم پی کے تحت پیش رفت کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے میٹنگ کو بتایا کہ پورے جموںوکشمیریوٹی میں 98 فیصد خسرات کو ڈیجیٹائز کرکے منظور کیا جا چکا ہے جبکہ 97 فیصد دیہات میں فرسٹ لیول فریزنگ کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ زائد اَز 5,401 گاؤں کی سطح پر شکایتی کیمپ منعقد کئے گئے جہاں جمعبندیوں کی عوامی پڑھت کے دوران 52 ہزار سے زائد غیر عدالتی اور 5700 سے زائد نیم عدالتی شکایات درج کی گئیںاور ان کا زالہ کیاجارہاہے ۔تازہ ترین جمعبندی 2026 کی حتمی فریزنگ 31؍ مارچ تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔یو ایل پی آئی این یا بھو آدھار کے بارے میں میٹنگ کو بتایا گیا کہ اب تک 3,320 دیہات کے لئے 20.56 لاکھ سے زیادہ منفرد لینڈ پارسل آئیڈنٹیفکیشن نمبرز جاری کئے جا چکے ہیں۔ کیڈسٹرل نقشوں کی ڈیجیٹائزیشن کے تحت 6,857 میں سے 6,518 دیہات جو کہ 95.2 فیصد بنتے ہیں، کو جیو ریفرنس کیا گیا ہے۔میٹنگ کو مزید بتایا گیا کہ 7.28 کروڑ ریونیو دستاویزات جن میں جمعبندیاں، انتقالات اور گرداوری ریکارڈ شامل ہیں، سکین کرکے لینڈ ریکارڈز اِنفارمیشن سسٹم (ایل آر آئی ایس) پر اَپ لوڈ کئے جا چکے ہیں۔ شہری آبادیوں کے لئے لینڈ ریکارڈ تیار کرنے کے مقصد سے این اے کے ایس ایچ اے پروگرام کے تحت بشناہ میں فضائی سروے، او آر آئی جنریشن اور گراؤنڈ ٹروتھنگ کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے۔چیف سیکرٹری نے اَب تک حاصل کی گئی پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ باقی ماندہ اہداف بھی بہ آسانی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا،’’ہم نے کافی پیش رفت حاصل کی ہے اور بہت سا کام مکمل کر لیا ہے۔ ابھی کچھ مرحلے باقی ہیں مگر اہداف حاصل کرنا ممکن ہے۔ کئی ریاستیں اس میدان میں آگے ہیں اور جموں و کشمیر کو بھی ان کے ساتھ قدمسے قدم ملا کر چلنا ہوگا۔‘‘اُنہوں نے ڈیجیٹائزیشن کے عمل کے دوران پیش آنے والی مشکلات اور تعطل کو دور کرنے کے لئے متعدد ہدایات جاری کیں۔چیف سیکرٹری نے صوبائی کمشنروںسے کہا کہ وہ ہر جزو کے تحت پیش رفت کی ذاتی طور پر نگرانی کریں اور ضلع ترقیاتی کمشنروں کو مؤثر عمل در آمد کے لئے فعال رہنمائی فراہم کریں۔ اس کے ساتھ ہی تمام اضلاع کو زیر اِلتوا ٔاہداف مکمل کرنے کے لئے مخصوص وقت پر مبنی ہدف بھی مقرر کئے گئے۔