اڑان اسکیم کے تحت جموں و کشمیر کے 11 ہوائی پٹیاں نشان زد

اڑان اسکیم کے تحت جموں و کشمیر کے 11 ہوائی پٹیاں نشان زد

تاحال کوئی پرواز روٹ منظور نہیں، فضائی کرایوں پر حکومتی کنٹرول نہیں//مرکزی وزیر

سرینگر// یو این ایس / مرکزی حکومت نے بتایا ہے کہ علاقائی فضائی رابطہ اسکیم یوڈان کے تحت جموں و کشمیر کی کئی ہوائی پٹیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، تاہم اب تک ان کے لیے کسی پرواز روٹ کو منظوری نہیں دی گئی ہے۔یہ بات مرکزی وزیر برائے شہری ہوا بازی کنجراپو رام موہن نائیڈو نے راجیہ سبھا میں ایک غیر ستارہ سوال کے جواب میں بتائی۔وزیر نے کہا کہ ملک میں نئے ہوائی اڈوں کی تعمیر کے لیے گرین فیلڈ ایئرپورٹس پالیسی وضع کی گئی ہے جس کے تحت کسی بھی ایئرپورٹ ڈیولپر، بشمول ریاستی حکومتیں، کو مناسب مقام کی نشاندہی کرنی ہوتی ہے، ابتدائی فزیبلٹی مطالعہ انجام دینا ہوتا ہے اور اس کے بعد مرکزی حکومت کو سائٹ کلیئرنس اور اصولی منظوری کے لیے تجویز پیش کرنی ہوتی ہے۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے بتایا کہ ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کی ایک ماہر کمیٹی نے ادھم پور ایئر فورس اسٹیشن کا دورہ کر کے دفاعی ہوائی اڈے پر شہری پروازیں شروع کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا ہے۔ ابتدائی جانچ کے مطابق وہاں سول انکلیو قائم کرنا ممکن قرار دیا گیا ہے، تاہم اس کے لیے ضابطہ جاتی منظوری اور زمین کی دستیابی ضروری ہوگی۔مرکزی وزیر کے مطابق ایک کمیٹی نے حال ہی میں کشتواڑ ایئر فیلڈ کا بھی دورہ کیا ہے تاکہ وہاں سے شہری پروازیں شروع کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ یوڈان دستاویز میں جموں و کشمیر کی جن ہوائی پٹیوں کو شامل کیا گیا ہے ان میں اکھنور، چمب، گریز، جھنگر، کشتواڑ، میران صاحب، مانتلائی، پنزگام، پونچھ، راجوری اور ادھم پور شامل ہیں۔ تاہم یوڈان اسکیم کے تحت بولی کے پہلے پانچ مرحلوں میں ان ہوائی پٹیوں کو کسی علاقائی پرواز کے لیے روٹ الاٹ نہیں کیا گیا۔فضائی کرایوں میں اضافے سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر نے کہا کہ مارچ 1994 میں ایئر کارپوریشن ایکٹ کی منسوخی کے بعد حکومت فضائی کرایوں کو براہ راست کنٹرول نہیں کرتی۔انہوں نے کہا کہ ایئر لائن کمپنیوں کو آپریشنل ضروریات کے مطابق ٹکٹ کی قیمتیں مقرر کرنے کی آزادی حاصل ہے، البتہ انہیں ایئرکرافٹ رولز کے رول 135 کی پابندی کرنا ہوتی ہے۔وزیر کے مطابق فضائی کرایوں کا تعین مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق ہوتا ہے اور اس پر نشستوں کی دستیابی، جیٹ ایندھن کی قیمتیں، طیارے کی گنجائش، موسمی طلب اور دیگر آپریشنل عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔