فاروق عبداللہ پر فائرنگ کی کوشش

فاروق عبداللہ پر فائرنگ کی کوشش

حملہ آور کے پس منظر کی تفتیش، سکیورٹی انتظامات کا بھی جائزہ

سرینگر//یواین ایس / پولیس نے سابق وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر مبینہ فائرنگ کرنے والے شخص کمل سنگھ جموال کے پس منظر کی تفصیلی جانچ شروع کر دی ہے۔ حکام کے مطابق ملزم کے ذاتی، سماجی اور ممکنہ تنظیمی روابط کی چھان بین کی جا رہی ہے تاکہ حملے کے محرکات کا پتہ لگایا جا سکے۔پولیس حکام نے بتایا کہ 63 سالہ کمل سنگھ جموال، جو جموں کے علاقے پرانی منڈی کا رہائشی ہے، سے مسلسل پوچھ گچھ جاری ہے۔ تفتیش کے دوران ملزم کی حالیہ سرگرمیوں اور حملے سے قبل اس کی نقل و حرکت کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق بدھ کی رات جموں کے مضافاتی علاقے گریٹر کیلاش میں ایک شادی کی تقریب کے دوران اس وقت سنسنی پھیل گئی جب ملزم نے مبینہ طور پر فاروق عبداللہ پر پیچھے سے فائرنگ کی کوشش کی۔ تاہم ان کے ساتھ تعینات سکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حملہ ناکام بنا دیا۔یو این ایس کے مطابق پولیس نے ملزم کے قبضے سے ایک لائسنس یافتہ پستول بھی برآمد کیا ہے جسے واردات میں استعمال کیا گیا بتایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے مشیر ناصر اسلم وانی بھی فاروق عبداللہ کے ہمراہ موجود تھے۔پولیس کے مطابق ملزم نے ابتدائی پوچھ گچھ میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ گزشتہ تقریباً بیس برس سے فاروق عبداللہ کو نشانہ بنانے کے موقع کی تلاش میں تھا۔ حکام اس بیان کی بھی تصدیق کر رہے ہیں اور اس کے ممکنہ محرکات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ادھر پولیس نے شادی کی تقریب کے مقام پر سکیورٹی انتظامات کا بھی از سر نو جائزہ شروع کر دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ملزم کس طرح ہتھیار کے ساتھ تقریب میں داخل ہونے میں کامیاب ہوا۔دریں اثنا بی جے پی کے رہنما جہانزیب سروال نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے تشدد آمیز واقعات جمہوری اور مہذب معاشرے میں قابل قبول نہیں ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ حملے کے تمام حقائق سامنے آئیں اور قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔