18 لاکھ سے زائد ٹیولپ بلب ، رواں سال ریکارڈ تعداد سیاحوں کی آمد کی توقع
سرینگر//یو این ایس / سرینگر میں واقع ایشیا کا سب سے بڑا ٹیولپ گارڈن 16 مارچ سے عوام اور سیاحوں کے لیے باضابطہ طور پر کھول دیا جائے گا۔ محکمہ فلوریکلچر کے حکام کے مطابق باغ میں اس وقت ٹیولپ کے پھول پوری آب و تاب کے ساتھ کھل چکے ہیں اور سیاحوں کے استقبال کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔یو این ایس کے مطابق محکمہ فلوریکلچر کشمیر کی ڈائریکٹر متھورا معصوم نے منگل کے روز بتایا کہ زبرون پہاڑی سلسلے کے دامن میں ڈل جھیل کے دلکش نظاروں کے ساتھ واقع اندرا گاندھی میموریل ٹیولپ گارڈن سیاحوں کے استقبال کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ باغ میں ٹیولپ کے پھولوں کے کھلنے کے ساتھ ہی وادی کشمیر میں سیاحتی سیزن کا باضابطہ آغاز ہوتا ہے۔ حکام کے مطابق اس سال باغ میں تقریباً 18 لاکھ ٹیولپ بلب لگائے گئے ہیں جن میں 70 سے 75 مختلف اقسام شامل ہیں۔ اس سال پھولوں کی کیاریوں کی کثافت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے تاکہ باغ آنے والے سیاحوں کو زیادہ دلکش اور رنگارنگ نظارہ دیکھنے کو مل سکے۔ سرینگر کے شہرہ آفاق ڈل جھیل کے مشرقی کنارے پر سطح سمندر سے تقریباً 5600 فٹ کی بلندی پر واقع یہ باغ 30 ہیکٹر سے زائد اراضی پر پھیلا ہوا ہے۔ اس باغ کو ماضی میں ‘‘سراج باغ’’ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔حکام کے مطابق جب سال 2014 میں اس باغ کو پہلی مرتبہ سیاحوں کے لیے کھولا گیا تو صرف پہلے سات دنوں کے دوران ہی 40 ہزار سے زیادہ سیاحوں نے اس کا رخ کیا تھا۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس باغ نے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کی بھی بھرپور توجہ حاصل کی ہے۔محکمہ فلوریکلچر کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ گزشتہ برسوں میں جنوبی ہندوستان کی فلم انڈسٹری اور بالی ووڈ کی کئی فلموں اور نغموں کی شوٹنگ بھی اس خوبصورت باغ میں کی جا چکی ہے جس سے اس کی شہرت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔حکام کو امید ہے کہ اس سال باغ گل لالہ دیکھنے کے لیے ریکارڈ تعداد میں سیاح سرینگر کا رخ کریں گے۔ سیاحوں کو متوجہ کرنے کے لیے سوشل میڈیا سمیت مختلف ذرائع کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس قدرتی حسن سے لطف اندوز ہو سکیں۔محکمہ فلوریکلچر کے مطابق باغ کے باہر خصوصی اسٹالز بھی لگائے جائیں گے جہاں کشمیر کی روایتی دستکاریوں، مقامی کھانوں اور یہاں کی ثقافت و تہذیب کی جھلک پیش کی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف سیاحوں کو کشمیر کی ثقافت سے روشناس ہونے کا موقع ملے گا بلکہ مقامی کاریگروں اور تاجروں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔










