قبائلی زبانوں ، ثقافت اور تاریخی ورثے پر تحقیق کی ضرورت پر زور
جموں//وزیر برائے قبائلی امور جاوید احمد رانا نے محکمہ قبائلی امور کے تحت قائم پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (پی ایم یو) کے ساتھ ایک تفصیلی میٹنگ کی صدارت کی اور انہیں ہدایت دی کہ وہ جموں و کشمیر کے تمام قبائلی فلاحی پروگراموں کی نگرانی او ر ہم آہنگی کے لئے اِدارہ جاتی بنیاد کے طور پر کام کریں۔میٹنگ میں محکمہ کے نگرانی اور رِپورٹنگ کے نظام کو مضبوط بنانے پر توجہ دِی گئی تاکہ مختلف قبائلی فلاحی اقدامات کی عمل آوری کو منظم اور مقررہ مدت کے اندر مؤثر انداز میں یقینی بنایا جا سکے۔ میٹنگ میں ڈپٹی ڈائریکٹر قبائلی امور جموں اورنوڈل آفیسر ٹرائبل ریسرچ اِنسٹی چیوٹ (ٹی آر آئی) جموں و کشمیر ڈاکٹر عبدالخبیر، پی ایم یو کے اَفسران اور دیگر متعلقین نے شرکت کی۔دورانِ میٹنگ وزیر موصوف نے پی ایم یو ٹیم کے ساتھ اُن کے کردار پر تفصیلی غور وخوض کیا تاکہ محکمہ کے نگرانی کے فریم ورک کو مضبوط بنانے اور محکمہ اور ضلعی اِداروں کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنے کو یقینی بنایا جاسکے جو مختلف قبائلی فلاحی سکیموں کو عملارہے ہیں۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ پی ایم یو کو محکمہ کے لئے ایک پیشہ ورانہ معاون نظام کے طور پر کام کرنا چاہیے اور قبائلی کمیونٹیوںکے لئے جاری سکیموں اور پروگراموں کی بروقت نگرانی کے لئے ایک مضبوط مینجمنٹ اِنفارمیشن سسٹم قائم کرنے میں مدد کرنا چاہیے۔وزیرجاوید رانانے پی ایم یو کو ہدایت دی کہ وہ تحقیق کے دائرہ کار کو وسیع کریں اور قبائلی ترقی سے متعلق اہم مسائل پر گہری تحقیق کریں جن میں قبائلی زبانوں، ثقافت اور تاریخ کی دستاویز بندی اور مطالعہ بھی شامل ہو۔ اُنہوں نے اِس بات پر بھی زور دیا کہ وقت مقررہ کے اندر تحقیقی مطالعات مکمل کئے جائیں اور مخصوص اہداف پر مبنی اقدامات پر توجہ دی جائے تاکہ فلاحی منصوبوں کی بہتر منصوبہ بندی اور مؤثر عمل درآمد ممکن ہو سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ پی ایم یو کو ضلعی انتظامیہ اور فیلڈ سطح کے افسران کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ سکیموں کی عمل آوری سے متعلق درست اور بروقت معلومات جمع کی جا سکیں۔ ان سکیموں میں سکالرشپ پروگرام، روزگار کے اقدامات، ون دھن وکاس کیندر، ایکلاویہ ماڈل رہائشی سکول، قبائلی ہوسٹلوں اور قبائلی کمیونٹیوں کی فلاح کے لئے جاری دیگر ترقیاتی اقدامات شامل ہیں۔وزیرموصوف نے پی ایم یو کو ہدایت دی کہ وہ سکیموں کی پیش رفت کی باقاعدہ نگرانی کے لئے ایک واضح طریقہ کار وضع کریں اور محکمہ کے لئے وقتاًفوقتاً تجزیاتی رپورٹس تیار کریں۔ ان رپورٹوں میں عمل درآمد کی صورتحال، درپیش رُکاوٹوں کی نشاندہی اور عملی سفارشات شامل ہونی چاہئیں تاکہ جہاں ضرورت ہو بروقت اصلاحی اقدامات کئے جا سکیں۔اُنہوں نے پی ایم یو سے مزید کہا کہ پی ایم یو کو قبائلی علاقوں میں فیلڈ سطح پر حاصل ہونے والے تجربات، اچھی عملی مثالوں اور کامیابی کی داستانوں کو دستاویزی شکل دینے میں بھی محکمہ کی مدد کرنی چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس طرح کی دستاویزات سے پالیسی ڈیزائن کو بہتر بنانے اور یونین ٹیریٹری کے مختلف علاقوں میں کامیاب ماڈلوں کا اِشتراک کرنے میں مدد ملے گی۔وزیر جاوید رانا پی ایم یو کی ٹیم پر زور دیا کہ وہ لگن اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ کام کریں تاکہ محکمہ قبائلی امور زمینی سطح پر واضح اور قابلِ پیمائش نتائج فراہم کر سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ محکمہ کی ہر کوشش کا بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ترقیاتی منصوبوں کے فوائد جموں و کشمیر کے دُور دراز علاقوں میں رہنے والے ہرقبائلی گھرانے تک پہنچیں اور قبائلی کمیونٹیوں کی طویل مدتی بااختیار بنانے اور باوقار زندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔










