جموں وکشمیرمیں جسمانی طور خاص اَفراد کیلئے مضبوط معاونتی نظام کی یقین دہانی کی
جموں//وزیر برائے سماجی بہبود، تعلیم، صحت و طبی تعلیم سکینہ اِیتو نے کنفیڈریشن آف فزیکل چیلنجڈ آرگنائزیشنز کے نمائندوں کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی اور جموں و کشمیر میںجسمانی طور خاص اَفراد کو درپیش مختلف مسائل اور شکایات کا جائزہ لیا۔یہ بات چیت فلاحی اقدامات کو مضبوط بنانے، رَسائی کو بہتر بنانے اور اِس بات کو یقینی بنانے کے مقصد کے ساتھ منعقد کی گئی تھی کہ ترقی کے ثمرات جموںوکشمیر کے ہرفرد بالخصوص جسمانی طور خاص اَفراد تک پہنچے۔میٹنگ میں کمشنر سیکرٹری محکمہ سماجی بہبود سرمد حفیظ، ڈائریکٹرسماجی بہبود کشمیر محمد اکبر وانی، مشن ڈائریکٹر پوشن/آئی سی ڈِی ایس سجاد حسین گنائی، ڈائریکٹر سماجی بہبود جموں رنجیت سنگھ، ڈائریکٹر فائنانس محکمہ سماجی بہبود اور دیگر سینئر افسران کے علاوہ کنفیڈریشن آف فزیکل چیلنجڈ آرگنائزیشنز کے ممبران اور متعلقہ اَفسران نے ذاتی طور پر یا بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ شرکت کی۔اِس موقعہ پر وزیر موصوفہ نے اِس بات پر زو ر دیا کہ جامع طرزِ حکمرانی حکومت کی بنیادی ترجیح ہے۔اُنہوں نے کہا، ’’جسمانی طور خاص اَفراد کے حقوق، وقار اور فلاح و بہبود پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہماری پالیسیوں کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ سب کے لئے مساوی مواقع اور سہولیات کو یقینی بنایا جا سکے۔‘‘وزیرسکینہ اِیتو نے متعدد جاری اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے شرکأکو بتایا کہ محکمہ سماجی بہبودجسمانی طور خاص اَفراد کی فلاح کے لئے سرگرمی سے کام کر رہا ہے اور فلاحی سکیموں کو دُور دراز اور پسماندہ علاقوں تک پہنچانے کے لئے عوامی رَسائی پروگراموں کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جامع ترقی کے اہداف کے مطابق عوامی بنیادی ڈھانچے، تعلیمی اِداروں اور سرکاری دفاتر میں جسمانی طور خاص اَفراد کے لئے رسائی بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔دوران میٹنگ اُنہوں نے جسمانی طور خاص اَفراد کے لئے معاونتی نظام کو مضبوط بنانے کے مقصد سے کئی کلیدی ہدایات جاری کیں۔ اُنہوں نے اَفسران کو ہدایت دی کہ ایسے معذور افراد جنہیں والدین کی سرپرستی حاصل نہیں ہے، انہیں انتیودیا اَنا یوجنا (اے اے وائی) کے تحت راشن کارڈ فراہم کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے۔ اُنہوں نے محکمہ کو جموں اور سری نگر دونوں مقامات پر جسمانی طور خاص اَفراد کے لئے مخصوص ہاہوسٹل سہولیات کے قیام کے امکان کا بھی جائزہ لینے کی ہدایت دی۔وزیر موصوفہ نے ایک اہم فیصلے کے تحت محکمہ کو ہدایت دی کہ اِنتظامی سطح پر ایک نوڈل آفیسر مقرر کیا جائے جو معذجسمانی طور خاص اَفراد کی شکایات اور مسائل کے ازالے کے لئے واحد نکاتی رابطہ کے طور پر کام کرے۔اُنہوں نے یقین دِلایا کہ مختلف شراکت داروں کی آرأ وتجاویز آئندہ پالیسیوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کریں گی اور مشاورت کے دوران موصول ہونے والی حقیقی تجاویز کو جہاں بھی ممکن ہو شامل کیا جائے گا۔۔ اُنہوں نے اِس بات پرزور دیا کہ ذمہ دار اور ضرورت پر مبنی فلاحی پروگراموں کو ڈیزائن کرنے کے لئے حکومت اور متعلقہ تنظیموں کے درمیان مسلسل بات چیت ضروری ہے۔وزیر موصوفہ نے اس طرح کی تنظیموں کے کردار کو سراہتے ہوئے جسمانی طور خاص اَفراد کے حقوق کی وکالت کرنے اور حکومت اوراستفادہ کنندگان کے درمیا ن خلیج کو ختم کرنے میں ان کی خدمات کو تسلیم کیا۔ اُنہوں نے ایک جامع معاشرے کی تعمیر کے لئے مشترکہ کوششوں پر زور دیا جہاں کوئی فرد پیچھے نہ رہے۔کنفیڈریشن کے نمائندوں نے کھلی بات چیت کی سہولیت فراہم کرنے پر وزیر سماجی بہبود سکینہ اِیتو کا شکریہ ادا کیا اور جسمانی طور خاص اَفراد کو درپیش مسائل کے حل کے لئے حکومت کے فعال روئیے کا خیرمقدم کیا۔










