مہینوں کی محنت سے تیار ہونے والی شالیں، مگر کاریگر اب بھی کم اجرت اور بدلتی منڈی کے دباؤ سے نبرد آزما
سرینگر/یو این ایس/ دنیا جب کشمیری شال کو وقار، نفاست اور شان کی علامت کے طور پر دیکھتی ہے تو شاید ہی کسی کو اس کے پیچھے چھپی خاموش محنت کا اندازہ ہو۔ یہ شالیں عالمی منڈیوں اور نمایاں شخصیات تک پہنچنے سے پہلے وادی کشمیر کے چھوٹے دیہاتوں کے ان گھروں میں بنتی ہیں جہاں لکڑی کے کھڈیوں پر جھکے کاریگر صدیوں پرانی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ضلع بڈگام کا گاوں سوئیہ بگ بھی انہی مقامات میں شامل ہے۔ یہاں کے سادہ گھروں میں مدھم روشنی کے درمیان کاریگر روزانہ کئی گھنٹے کھڈیوں پر بیٹھ کر دھاگوں کو اس نفاست سے بْنتے ہیں کہ آخرکار وہی دھاگے ایک قیمتی کشمیری شال کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔یو این ایس کے مطابق چالیس سالہ جاوید احمد میر کے لیے شالبافی صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ وراثت ہے۔ وہ گزشتہ دو دہائیوں سے یہ کام کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ہنر انہیں اپنے والد سے ملا تھا۔ان کے مطابق،’’یہ صرف روزی کا ذریعہ نہیں بلکہ ہماری شناخت ہے۔ اگر ہم اسے چھوڑ دیں تو یہ روایت بھی ختم ہو سکتی ہے۔‘‘کشمیری شال کی تیاری ایک طویل اور محنت طلب عمل ہے۔ پہلے پشمینہ یا اون سے باریک دھاگہ تیار کیا جاتا ہے، پھر اسے ہاتھ سے بْنا جاتا ہے اور آخر میں نفیس کڑھائی شامل کی جاتی ہے۔ ایک شال مکمل ہونے میں کئی ہفتے بلکہ بعض اوقات مہینے لگ جاتے ہیں۔اس کے باوجود کاریگروں کی آمدنی محدود ہے۔ زیادہ تر کاریگر روزانہ صرف دو سے تین سو روپے تک کماتے ہیں، جو اس محنت کے مقابلے میں بہت کم تصور کیے جاتے ہیں۔حسینہ اختر، جو کم عمری سے اس پیشے سے وابستہ ہیں، کہتی ہیں کہ شال بنانا صبر اور مہارت کا امتحان ہوتا ہے۔ ان کے مطابق مسلسل جھک کر کام کرنے سے کمر درد اور آنکھوں کی کمزوری جیسے مسائل عام ہو جاتے ہیں، مگر اس کے باوجود وہ اس پیشے کو چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتیں۔کشمیری شالوں کے نقش و نگار محض آرائشی نہیں بلکہ تاریخ کا تسلسل ہیں۔ مغل دور کے معروف ڈیزائن جیسے بوٹا محمد شاہ، شاہ پسند اور جامہ وار آج بھی شالوں پر بنائے جاتے ہیں۔ تاریخی روایات کے مطابق اس فن کو کشمیر میں فروغ دینے کا سہرا صوفی بزرگ میر سید علی ہمدانیؒ کو دیا جاتا ہے، جنہوں نے وسطی ایشیائی اثرات کے ساتھ اس ہنر کو وادی میں متعارف کرایا۔آج یہی شالیں عالمی سطح پر ایک قیمتی ثقافتی علامت بن چکی ہیں۔ بین الاقوامی مارکیٹوں میں پشمینہ شالوں کی مانگ موجود ہے اور کئی مواقع پر انہیں سفارتی تحفوں کے طور پر بھی پیش کیا جاتا ہے۔لیکن اس عالمی شہرت کے باوجود مقامی کاریگروں کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ امرتسر اور دیگر علاقوں میں مشینوں سے تیار ہونے والی شالیں کم قیمت اور تیز پیداوار کے باعث بازار میں تیزی سے جگہ بنا رہی ہیں۔تین دہائیوں سے اس پیشے سے وابستہ نذیر احمد ملک کہتے ہیں کہ ہاتھ سے بنی شال کی اصل خوبصورتی اس کی باریکی اور محنت میں ہوتی ہے، مگر مشینی شالیں سستی ہونے کی وجہ سے اکثر خریداروں کو اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہیں۔گزشتہ چند برسوں میں خواتین کی شمولیت نے بھی اس پیشے کو نئی جہت دی ہے۔ اب کئی خواتین گھروں میں بیٹھ کر کڑھائی اور بْنائی کے کام میں حصہ لے رہی ہیں۔ مقامی کاریگر سمینہ کے مطابق اگر کاریگروں کو براہ راست منڈی تک رسائی دی جائے تو ان کی آمدنی اور حالات دونوں بہتر ہو سکتے ہیں۔سوئیہ بگ کے گھروں میں آج بھی کھڈیوں کی مسلسل ٹک ٹک سنائی دیتی ہے۔ یہ آوازیں کسی صنعت کی نہیں بلکہ ایک صدیوں پرانی ثقافت کی دھڑکن ہیں۔دنیا کشمیری شال کو شان و شوکت کے طور پر دیکھتی ہے، مگر اسے بنانے والے کاریگر اسے اپنی زندگی، محنت اور وراثت کے طور پر جیتے ہیں۔ سوئیہ بگ شاید خبروں میں کم نظر آتا ہو، لیکن اس کے گھروں میں بْنتے دھاگے کشمیر کی تہذیبی شناخت کو آج بھی زندہ رکھے ہوئے ہیں۔










