جموں کشمیرمیں نوجوانوں میں نئے حوصلے اور امیدوں کا ابھار// مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ
سرینگر/یو این ایس/ مرکزی وزیر مملکت ڈاکتر جتندر سنگھ نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں مواقع کی جمہوری فراہمی کے بعد نوجوانوں میں ایک نئی امید، خود اعتمادی اور ترقی کی خواہش پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھنے کے یکساں مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔یو این ایس کے مطابق ڈاکٹر جتیندر سنگھ یہ بات جموں میں اپنی رہائش گاہ پر منعقدہ ایک خصوصی ظہرانے کے دوران کہہ رہے تھے، جہاں انہوں نے جموں کشمیر کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو رانجی ٹرافی میں شاندار کارکردگی پر مبارکباد دی۔ اس موقع پر انہوں نے کھلاڑیوں کی کامیابی کو جموں و کشمیر کے نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے اعتماد اور بلند عزائم کی عکاسی قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے کہ ملک کے ہر نوجوان کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھنے کے یکساں مواقع مل سکیں۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا’’آج ملک میں میرٹ اور محنت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ کھیلوں سمیت مختلف شعبوں میں سفارش اور اثر و رسوخ کی روایت کو ختم کرنے کی سنجیدہ کوشش کی گئی ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں اصلاحات کا عمل اگرچہ کچھ تاخیر سے شروع ہوا، لیکن دفعہ370کی منسوخی کے بعد انتظامی اور حکمرانی کے نظام میں تیزی سے تبدیلیاں آئیں اور خطہ دیگر ریاستوں کی طرح جدید طرزِ حکمرانی کی طرف بڑھا۔وزیر موصوف کے مطابق بھرتی کے عمل میں انٹرویو کے مرحلے کو ختم کرنا ایک اہم قدم ثابت ہوا ہے جس سے شفافیت اور انصاف کو فروغ ملا ہے۔انہوں نے کہا’’اب دور دراز علاقوں کے نوجوان بھی اپنی صلاحیتوں کے بل پر ملازمتیں حاصل کر رہے ہیں، جبکہ ماضی میں یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ صرف بااثر خاندانوں کے افراد کو ہی مواقع ملتے ہیں۔‘‘انہوں نے حالیہ سول سروس امتحانات کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ کشمیر وادی سے تعلق رکھنے والا ایک بصارت سے محروم نوجوان، جو ایک مزدور کا بیٹا ہے، حال ہی میں سول سروس میں منتخب ہوا ہے۔ ان کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب کامیابی کا معیار صرف میرٹ اور محنت ہے۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہی شفافیت کھیلوں کے میدان میں بھی نظر آ رہی ہے۔ ان کے مطابق جب سے کھیلوں میں میرٹ کی بنیاد پر انتخاب کا نظام مضبوط ہوا ہے، تب سے مختلف علاقوں کے باصلاحیت نوجوانوں کو قومی سطح پر اپنی صلاحیتیں دکھانے کے مواقع مل رہے ہیں۔انہوں نے خاص طور پر کرکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب کرنا ٹکا کرکت ٹیم جیسی مضبوط ٹیموں کے مقابلے میں جموں و کشمیر کی ٹیم کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی تھی، لیکن اب جموں و کشمیر کی ٹیم نے اپنی شاندار کارکردگی سے ملکی کرکٹ میں اپنی پہچان بنا لی ہے۔ وزیر موصوف نے کہا’’یہ کامیابی جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو یہ یقین دلاتی ہے کہ وہ بھی ملک کے بہترین کھلاڑیوں کے ساتھ مقابلہ کر سکتے ہیں اور کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں نوجوانوں کے لیے صرف سرکاری ملازمت ہی واحد راستہ نہیں رہا بلکہ کاروبار اور اسٹارٹ اپس کے میدان میں بھی نئے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر لیونڈر کی کاشت اور اس سے جڑے کاروبار کو ایک کامیاب مثال قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ مشن آروماکے تحت لیونڈر کی کاشت نے دیہی علاقوں کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھولے ہیں اور اب کئی نوجوان اس شعبے میں کامیاب کاروبار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس ماڈل کو اب دیگر پہاڑی ریاستیں جیسے اروناچل پردیش،ناگالینڈ،اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش بھی اپنانے پر غور کر رہی ہیں۔تقریب کے اختتام پر وزیر موصوف نے جموں و کشمیر کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو ان کی نمایاں کارکردگی پر یادگاری تحائف پیش کیے اور امید ظاہر کی کہ خطے کے نوجوان مستقبل میں کھیل، انتظامیہ، کاروبار اور اختراعات سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کریں گے۔اس موقع پر برگیڈر انیل گپتاسینئر مین ٹیم کے ہیڈ کوچ اجے شرمااور جے کے رانجی ٹیم کے کپتان پارس ڈوگرہ سمیت دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔










