کشمیر میںتمام اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں پیر سے دوبارہ کھلیں گی// وزیر تعلیم
سرینگریو این ایس/ کشمیر خطے میں ایک ہفتے کی احتیاطی بندش کے بعد تعلیمی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہونے جا رہی ہیں اور پیر سے تمام اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں کھل جائیں گی۔ حکومت نے کہا ہے کہ زمینی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو اور تعلیمی عمل معمول کے مطابق جاری رہ سکے۔جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینی ایتونے اتوار کو اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے تمام اضلاع میں تعلیمی ادارے پیر سے دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مسلسل حالات پر نظر رکھے ہوئے تھی اور تمام متعلقہ حکام سے مشاورت کے بعد تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔یو این ایس کے مطابق وزیر تعلیم نے کہا،’’ہم نے زمینی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا ہے اور اس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کشمیر خطے کے تمام اضلاع میں اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں پیر سے دوبارہ کھل جائیں گی۔ حکومت کی اولین ترجیح طلبہ کی سلامتی کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیم کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ تعلیمی اداروں میں سازگار اور محفوظ ماحول فراہم کیا جائے تاکہ طلبہ بلا خوف و خطر اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ ان کے مطابق تعلیمی نظام کو مستحکم اور فعال بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔واضح رہے کہ ایک ہفتہ قبل حکومت نے احتیاطی اقدام کے طور پر کشمیر میں تمام تعلیمی اداروں کو عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کا مقصد طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنانا تھا کیونکہ خطے میں بعض مقامات پر احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ادھر وادی میں آٹھویں جماعت تک کے اسکول بھی پیر سے دوبارہ کھل جائیں گے جو دو ماہ سے زائد جاری رہنے والی سرمائی تعطیلات کے بعد اپنی سرگرمیاں شروع کریں گے۔ محکمہ اسکولی تعلیم کے مطابق ابتدائی اور مڈل سطح کے طلبہ کے لیے سرمائی تعطیلات یکم دسمبر سے 28 فروری تک مقرر کی گئی تھیں۔اس سے قبل 23 فروری کو نویں سے بارہویں جماعت تک کے اسکولوں میں بھی تقریباً 70 روزہ سرمائی تعطیلات کے بعد تعلیمی سرگرمیاں بحال کی گئی تھیں۔ محکمہ اسکولی تعلیم نے سرمائی تعطیلات کا اعلان مرحلہ وار کیا تھا تاکہ طلبہ اور تعلیمی ادارے موسمی حالات کے مطابق اپنے تعلیمی شیڈول کو منظم کر سکیں۔حکام کے مطابق پری پرائمری کلاسوں کے لیے تعطیلات 26 نومبر سے 28 فروری تک جاری رہیں جبکہ پہلی سے آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے سرمائی تعطیلات یکم دسمبر سے شروع ہو کر فروری کے اختتام تک جاری رہیں۔ اسی طرح نویں سے بارہویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے تعطیلات 11 دسمبر 2025 سے 22 فروری 2026 تک مقرر کی گئی تھیں۔محکمہ تعلیم نے اس دوران تدریسی عملے کو ہدایت دی تھی کہ وہ تعطیلات کے باوجود کسی بھی تعلیمی سرگرمی کے لیے دستیاب رہیں۔ اس سلسلے میں اساتذہ کو 20 فروری کو اپنے متعلقہ اسکولوں میں رپورٹ کرنے کو کہا گیا تھا تاکہ اداروں کے دوبارہ آغاز کے لیے ضروری انتظامات مکمل کیے جا سکیں۔دوسری جانب کشمیر وادی میں ڈگری کالجوں میں بھی سرمائی تعطیلات کے بعد تعلیمی سرگرمیاں بحال ہو چکی ہیں۔ محکمہ اعلیٰ تعلیم کے مطابق کشمیر ڈویژن اور جموں ڈویڑن کے سرمائی زون میں واقع ڈگری کالجوں میں 24 دسمبر 2025 سے 14 فروری 2026 تک 52 روزہ سرمائی تعطیلات منائی گئی تھیں، جس کے بعد کالجوں میں تعلیمی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو گئی تھیں۔تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کے دوبارہ کھلنے سے طلبہ کو اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو منظم انداز میں جاری رکھنے کا موقع ملے گا۔ ان کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران تعطیلات اور بندش کے باعث تعلیمی نظام کسی حد تک متاثر ہوا تھا تاہم اداروں کی بحالی سے معمولات دوبارہ بحال ہونے کی توقع ہے۔والدین اور طلبہ نے بھی تعلیمی اداروں کی دوبارہ بحالی کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ آنے والے دنوں میں تعلیمی سرگرمیاں بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہیں گی اور طلبہ اپنی پڑھائی پر پوری توجہ مرکوز کر سکیں گے۔










