power

جموں کشمیر اور لداخ میں توانائی کا بڑا بحران متوقع

آئندہ 10برسوں میں 9.5 ارب یونٹ بجلی کی کمی کا خدشہ

سرینگر/یو این ایس / جموں کشمیر میں آئندہ ایک دہائی کے دوران بجلی کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ دونوں خطوں کی متوقع طلب کے مقابلے میں تقریباً 9.5 بلین یونٹس بجلی کی کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق موجودہ اور منصوبہ بند بجلی کے معاہدوں کے باوجود سال 2035-36تک بجلی کی ضروریات پوری کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ سرکاری دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ اسی بنیاد پر اس مدت میں 9.5 بلین یونٹ بجلی کی طلب پوری نہ ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔یو این ایس کے مطابق یہ تجزیہ جموں کشمیر سٹیٹ لوڈ ڈیسپیچ سینٹر کے دستیاب اعداد و شمار کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس میں موجودہ بجلی کی پیداوار اور آئندہ منصوبہ بند صلاحیتوں کو مدنظر رکھا گیا ہے۔دستاویز کے مطابق 2035-36کے دوران بجلی کی سالانہ متوقع طلب کا تقریباً 29 فیصد حصہ پورا نہیں ہو سکے گا۔ اس تحقیق میں روزانہ اور ماہانہ بنیادوں پر بجلی کی کمی کے رجحان کا بھی جائزہ لیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ اور منصوبہ بند معاہدہ شدہ صلاحیت بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ماہرین کے مطابق بجلی کی یہ کمی سال بھر مختلف اوقات میں برقرار رہ سکتی ہے اور یہ صورتحالشمسی توانائی کے اوقات اور غیر شمسی اوقات دونوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔قابل ذکر ہے کہ گزشتہ برس ستمبر 2025 میں بھی خبردار کیا گیا تھا کہ آئندہ دس برسوں میں جموں کشمیر اور لداخ میں بجلی کی کمی 4200 میگاواٹ سے بڑھ کر 10 ہزار میگاواٹ تک پہنچ سکتی ہے، جو توانائی کے شعبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مستقبل میں توانائی کے شعبے میں غیر فوسل ایندھن پر مبنی ذرائع کا حصہ بڑھنے کا امکان ہے۔ اندازے کے مطابق سال2034-35تک بجلی کی مجموعی پیداوار میں تقریباً 62 فیصد حصہ قابلِ تجدید توانائی پر مبنی ہوگا، جو حکومت کی’’قابلِ تجدید توانائی خریداری کی لازمی شرط‘‘پالیسی کے مطابق ہوگا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بجلی کی پیداوار کے نئے منصوبے بروقت مکمل نہ کیے گئے اور متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ نہ دیا گیا تو آنے والے برسوں میں خطے کو توانائی کی فراہمی کے حوالے سے سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے اثرات صنعت، زراعت اور عام صارفین پر بھی مرتب ہوں گے۔