حکومت کی بڑے محکموں کو بھی ہدایات، رایلٹی قواعد پر سختی سے عملدرآمد کی تاکید
سرینگر// یو این ایس / محکمہ ارضیات و کان کنی جموں و کشمیر نے مرکزی زیر انتظام خطے کی تمام سرکاری خزانہ جات (ٹریڑریز) کو ہدایت جاری کی ہے کہ ترقیاتی کاموں میں شامل کسی بھی ٹھیکیدار یا ایجنسی کو اس وقت تک ادائیگی نہ کی جائے جب تک وہ معتبر رائلٹی کلیئرنس سرٹیفکیٹ پیش نہ کرے۔ سرکاری مراسلے کے مطابق ڈائریکٹر ارضیات و کانکنی ایس پی رکوال (جے کے اے ایس) کی جانب سے یہ ہدایات محکمہ خزانہ کے ڈائریکٹر اکاؤنٹس اینڈ ٹریڑریز کو ارسال کی گئی ہیں۔ یہ فیصلہ 27 فروری 2026 کو منعقدہ جائزہ میٹنگ میں دی گئی ہدایات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔یو این ایس کے مطابق مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں معمولی معدنیات کے استعمال کی صورت میں رائلٹی کی ادائیگی لازمی ہے اور اس ضمن میں متعلقہ سرٹیفکیٹ کے بغیر کسی قسم کی رقم جاری نہیں کی جائے گی۔محکمہ ارضیات و کانکنی کے مطابق متعدد مرکزی و ریاستی ایجنسیوں بشمول نیشنل ہائے وے اٹھارٹی آف انڈیا، پی ایم جی ایس وائی،محکمہ تعمیرات عامہ، بارڈر روڈس آرگنائزیشن، محکمہ جل شکتی، نیشنل ہائے وے اینڈ انفراسٹریکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹیڈ،ائر پورٹ اتھارٹی آف انڈیااور کنوکن ریلوئے کارپوریشن لمیٹیڈکو پہلے ہی ہدایت دی جا چکی ہے کہ وہ آر سی سی کے بغیر کسی فرم یا ٹھیکیدار کو ادائیگی نہ کریں۔اب محکمہ خزانہ سے کہا گیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کی تمام ٹریڑریز کو سختی سے پابند کرے کہ کسی بھی ایجنسی یا کنٹریکٹر کے حق میں ادائیگی اسی وقت عمل میں لائی جائے جب رائلٹی کلیئرنس سرٹیفکیٹ پیش کیا جائے۔حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ترقیاتی منصوبوں میں استعمال ہونے والی معمولی معدنیات کے استخراج کو منظم بنانا اور رائلٹی کی ادائیگی کو یقینی بنانا ہے تاکہ سرکاری محصولات کا تحفظ ہو اور غیر قانونی کانکنی پر روک لگائی جا سکے۔










