farooq abdullah

جموں کشمیر کرکٹ ایسو سی ایشن فنڈز بے ضابطگی معاملہ

عدالت نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے خلاف ابتدائی شواہد قرار دے کر فردِ جرم عائد کرنے کا حکم دیا

سرینگر// یو این ایس / سری نگر کی ایک عدالت نے جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن سے جڑے مبینہ کروڑوں روپے کے مالی بے ضابطگیوں کے معاملے میں سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور دیگر ملزمان کے خلاف ابتدائی طور پر کافی مواد موجود ہونے کا قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کا حکم دیا ہے۔یو این ایس کے مطابق چیف جوڈیشل مجسٹریٹ سری نگر کی عدالت نے 2 مارچ 2026 کو جاری اپنے حکم میں کہا کہ ریکارڈ پر موجود مواد سے بادی النظر میں مجرمانہ سازش اور اعتماد میں خیانت کے جرائم بنتے ہیں۔ عدالت کے مطابق ملزمان کے خلافرانبیر پینل کوڈ کی دفعات 120-B، 406 اور 409 کے تحت کارروائی کے لیے ضروری عناصر موجود ہیں۔اس مقدمے میں فاروق عبداللہ کے علاوہ سابق جنرل سیکریٹری محمد سلیم خان سابق خزانچی احسان مرزا غضنفر علی، منظور احمد اورجموں و کشمیر بینک کے سابق عہدیدار بشیر احمد مسگربھی نامزد ملزمان میں شامل ہیں۔یہ مقدمہ کرکٹ ایسوسی ایشن کے مالی معاملات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور فنڈز کے غلط استعمال سے متعلق ہے۔ کیس کی سماعت کے دوران دو ملزمان کو پہلے ہی معافی دی جا چکی ہے اور وہ عدالت میں سرکاری گواہ بن چکے ہیں۔عدالت نے اس دوران انفورسمنٹ دائریکٹوریٹ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست بھی مسترد کر دی جس میں مزید دفعات 411 اور 424 آر پی سی شامل کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ اس مقدمے کی تحقیقات اور پیروی ’سی آئی بی‘کر رہی ہے، اس لیے ای ڈی کو اس کیس میں اضافی الزامات شامل کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔اپنے حکم میں عدالت نے کہا کہ منی لانڈرنگ کے انسداد قانون کے تحت ای ڈی کی کارروائی اسی وقت ممکن ہے جب کسی بنیادی جرم سے حاصل شدہ آمدنی موجود ہو۔ عدالت نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ‘‘بنیادی جرم ایک جہاز کی مانند ہے جبکہ ای ڈی کے اختیارات اس پر نصب بارودی سرنگ کی طرح ہیں، جہاز کے بغیر وہ کام نہیں کر سکتی۔عدالت نے ملزمان کی جانب سے دائر کی گئی بریت کی درخواستیں بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مقدمہ آگے بڑھانے کے لیے کافی شواہد موجود ہیں۔ عدالت نے ہدایت دی کہ آئندہ ہفتے ملزمان کے خلاف باقاعدہ فردِ جرم عائد کی جائے گی۔عدالت نے مزید کہا کہ فردِ جرم عائد ہونے کے بعد سرکاری گواہ بننے والے ملزمان غضنفر علی اور گلزار احمد بیگ کے بیانات بطور شہادت ریکارڈ کیے جائیں گے، اور اگر وہ اپنے سابقہ موقف سے منحرف ہوئے تو عدالت مناسب احکامات جاری کرے گی۔