عازمین کی منسوخیوں سے ٹور آپریٹروں کو بھاری نقصانات کا خدشہ
سرینگر/ یو این ایس / مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث عمرہ کی ادائیگی کے لیے جانے والے بھارتی عازمین اپنے سفر منسوخ کر رہے ہیں، جس سے حج و عمرہ ٹور آپریٹرز کو بھاری مالی نقصانات کا سامنا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد خطے میں صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں متعدد خلیجی ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں اور فضائی آپریشن شدید متاثر ہوا ہے۔رواں رمضان المبارک کے آغاز پر مکہ مکرمہ میں عمرہ ادا کرنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ گزشتہ ماہ 9 لاکھ 4 ہزار سے زائد عازمین نے عمرہ ادا کیا، اور توقع تھی کہ رمضان کے دوران یہ تعداد مزید بڑھے گی کیونکہ اس مہینے میں عمرہ کو زیادہ فضیلت حاصل ہے۔سعودی عرب کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت عمرہ کے لیے عازمین بھیجنے والے ممالک میں تیسرے نمبر پر ہے۔ سال 2024 میں 18 لاکھ سے زائد بھارتی شہریوں نے عمرہ ادا کیا، جو 2023 کے مقابلے میں 32 فیصد اضافہ تھا۔ 2025 کے رمضان میں مجموعی طور پر 12 کروڑ 20 لاکھ سے زائد مسلمانوں نے عمرہ ادا کیا تھا۔آل انڈیا حج عمرہ ٹور آرگنائزرز ایسوسی ایشن کے پبلک ریلیشنز آفیسر غلام محمد کے مطابق رمضان کے دوران تقریباً ایک لاکھ بھارتی مسلمان عمرہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پروازوں کی منسوخی کے باعث عمرہ شدید متاثر ہوا ہے اور کئی بھارتی شہری سعودی عرب میں پھنس گئے ہیں۔ اس صورتحال سے مالی نقصانات بڑھ رہے ہیں کیونکہ بہت سے عازمین اپنے منصوبوں پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2 مارچ کو وزارت خارجہ کو عازمین کی واپسی کے لیے خط بھی لکھا گیا ہے۔حج اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک ہے اور ہر سال مخصوص دنوں میں ادا کیا جاتا ہے، جبکہ عمرہ سال کے کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے۔ عمرہ میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی زیارت اور مخصوص مناسک کی ادائیگی شامل ہے۔ عام دنوں میں 15 سے 20 روزہ عمرہ پیکیج کی قیمت تقریباً 1.25 سے 1.30 لاکھ روپے فی کس ہوتی ہے، تاہم رمضان میں طلب بڑھنے کے باعث یہی لاگت 2 لاکھ روپے تک پہنچ جاتی ہے۔کشمیر میں حالیہ برسوں کے دوران عمرہ کا رجحان بڑھا تھا اور ہزاروں افراد مقدس مقامات کی زیارت کے لیے روانہ ہوتے تھے۔ سری نگر ایئرپورٹ پر سفید احرام میں ملبوس عازمین کا منظر عام تھا، مگر حالیہ کشیدگی کے بعد مسافروں کی تعداد میں تقریباً دو ہزار افراد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سری نگر کے ایک نجی ٹور آپریٹر بشیر احمد نے بتایا کہ 2 مارچ کو انہیں 32 عازمین کا گروپ منسوخ کرنا پڑا، جس سے انہیں نمایاں مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ایک اور آپریٹر سید اقبال، جو گزشتہ 25 برس سے اس شعبے سے وابستہ ہیں، کا کہنا ہے کہ موجودہ خوف و ہراس آئندہ حج سیزن کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ گزشتہ سال تقریباً 1 لاکھ 75 ہزار بھارتی عازمین نے حج ادا کیا تھا، جبکہ دنیا بھر سے قریب 20 لاکھ مسلمانوں نے فریضہ حج انجام دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پروازوں کی منسوخی کے باعث ان کے 250 سے زائد عازمین سعودی عرب میں پھنسے ہوئے ہیں اور قیام میں توسیع کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔سعودی عرب میں موجود ایک کشمیری عازم نے بتایا کہ پیکیج کی مدت ختم ہونے کے بعد وہ رہائش اور کھانے پینے کے انتظامات خود کر رہے ہیں۔ کچھ عازمین کی واپسی اس وقت ممکن ہوئی جب انڈیگو نے پروازیں بحال کیں، تاہم ایئر انڈیا کی جانب سے تاحال واضح شیڈول جاری نہیں کیا گیا، جس کے باعث کئی افراد ابھی بھی انتظار میں ہیں۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر ٹور آپریٹرز اور عازمین دونوں غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں، اور اگر کشیدگی برقرار رہی تو حج سیزن پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔










