garmi

جمو ں و کشمیرغیر موسمی گرمی کی لپیٹ میں

درجہ حرارت میںمزیداضافے کی پیش گوئی

سرینگر// یو این ایس // محکمہ موسمیات نے اگلے 48 گھنٹوں کے دوران جموں و کشمیر میں دن کے درجہ حرارت میں نمایاں اضافے کی پیش گوئی کی ہے، جس کے ساتھ ہی گرمی مزید بڑھے گی ۔عہدیداروں نے کہا کہ مرکزی زیر انتظام علاقے میں اگلے چند دنوں تک موسم زیادہ تر خشک رہے گا۔ اس طویل خشک موسم سے سال کے اس وقت دن کے درجہ حرارت کو معمول کی حد سے کئی درجے اوپر جانے کا خدشہ ہے۔ایک اہلکار نے کہا، “موسم بنیادی طور پر صاف اور خشک رہے گا۔ اس کے نتیجے میں، دن اور رات کے درجہ حرارت میں بتدریج اضافے کا امکان ہے۔ اس عرصے کے دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کی توقع ہے۔درجہ حرارت میں اچانک اضافہ پچھلے ماہ کے سرد حالات کے بالکل برعکس ہے۔ جموں و کشمیر کے میدانی علاقے خاص طور پر متاثر ہوں گے، ہفتے کے آخر تک گرمی کی لہر جیسی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔اس پیشن گوئی سے اہلیان وادی نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔3مارچ2026بروزمنگل کوکشمیر بھرمیں گرمی کی شدت محسوس کی گئی ،کیونکہ بیشتر علاقوںمیں دن کا درجہ حرارت معمول سے کئی کئی ڈگری زیادہ درج ہوا۔موسمیاتی مرکز سری نگرکی جانب سے بدھ کی صبح جاری اعدادوشمار کے مطابق منگل کے روز سری نگرمیں دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 22.3ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیاگیا،جومعمول سے 9.3ڈگری زیادہ ہے ۔مسلسل خشک سالی کے نتیجے میں وادی کشمیر کے جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات میں اضافہ درج کیا جا رہا ہے۔ جنوبی کشمیر کے ترال میں شکارگاہ وائلڈ لایف علاقے میں جنگلات میں آگ اچانک نمودار ہوئی جس نے دیکھتے ہی ایک وسیع علاقے کو اپنی لپیٹ میں لیا۔مقامی لوگوں نے علاقے کے جنگلوں کو ہر طرف جلتے ہوئے دیکھا تو سب سے پہلے جنگلوں کے نزدیک رہائش پزیر لوگ دوران شب ہی آگ بجھانے کے کام میں مصروف ہوگئے۔جبکہ وائیلڈ لایف، محکمہ جنگلات اور فارسٹ پروٹیکشن نے مشترکہ طورپر آپریشن شروع کیا جو2دن تک جاری رہا۔اس دوران سرینگرکے داچھئی گام کے قریب زبروان جنگلاتی پٹی میں تازہ آگ بھڑک اٹھنے کی اطلاع ہے اورجنگل کے کافی علاقے میں آگ تیزی سے پھیل گئی ہے جس سے کل دھواں اٹھ رہا تھا۔فائربریگیڈ نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پانے کی کوشش کی ہے۔ آگ لگنے کی اصل وجہ کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ مقامی لوگوں نے آسمان پردھواں اٹھتے ہوئے دیکھاہے۔یہ واقعہ اس خطے میں جنگلات میں بار بار لگنے والی آگ، حیاتیاتی تنوع اور جنگلی حیات کے رہائش گاہوں کے لیے خطرہ بننے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔ حالیہ دنوں میں وادی کے جنگلوں میں کئی آگ لگنے کی اطلاعات ہیںجس میں فائر فائٹرز کو اونچائی اور وہاں تک پہنچے کیلئے سڑک رابطے نہ ہونیکی وجہ سے رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ادھر شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ ضلع کے ارن اور چندا جی جنگلاتی علاقوں میں کئی دنوں سے جنگل میں ایک بڑی آگ بھڑک رہی ہیَ۔ابتدائی گرمی نے سیب کے درختوں میں سرگرمی کو تیز کر دیا ہے۔ باغبانی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ تبدیلی فصلوں کو موسمی خطرات سے دوچار کر سکتی ہے۔