زراعت میں جموںوکشمیر میں نئے سٹارٹ اَپس ، ویلیو ایڈیشن اور کاروباری مواقع کیلئے بے پناہ صلاحیت موجودہے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ

زراعت میں جموںوکشمیر میں نئے سٹارٹ اَپس ، ویلیو ایڈیشن اور کاروباری مواقع کیلئے بے پناہ صلاحیت موجودہے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ

وزیرا علیٰ کا سکاسٹ جموں میں جے کے سی آئی پی کے تحت سٹارٹ اَپ رَسائی پروگرام سے خطاب

جموں// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر میں زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کی بے پناہ امکانات کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کمپٹے ٹیو ینس امپروومنٹ آف ایگری کلچر اینڈ الائیڈ سیکٹرز پروجیکٹ (جے کے سی آئی پی) جیسے اقدامات جموں وکشمیر میں متحرک سٹارٹ اپ ایکو سسٹم کو فروغ دینے اور اِختراع پر مبنی کاروبار کو بڑھاوا دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی(ایس کے یو اے ایس ٹی) جموں میں جے کے سی آئی پی کے تحت منعقدہ سٹارٹ اَپ رسائی پروگرام سے خطاب کر رہے تھے جس کا اہتمام یونیورسٹی اور محکمہ زرعی پیداوار حکومت جموں و کشمیر نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔پروگرام میں وزیر برائے زراعت جاوید احمد ڈار، وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، وائس چانسلرسکاسٹ جموں ڈاکٹر بی این ترپاٹھی، مشن ڈائریکٹر جامع زرعی ترقیاتی پروگرام ( ایچ اے ڈِی پی ) سندیپ کمار، ڈائریکٹر ریسرچ سکاسٹ جموں ڈاکٹر ایس کے گپتا اور رجسٹرار و ڈین فیکلٹی آف ایگری کلچر ڈاکٹر امیت کمار نے شرکت کی۔ اِس موقعہ پر یونیورسٹی کے اساتذہ و عملہ، کاروباری حضرات، صنعت کار، سٹارٹ اَپ بانیوں اور صوبہ جموں کے مختلف کالجوں کے طلبأبھی موجود تھے۔وزیر اعلیٰ نے اپنے خطاب میں نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ زراعت اور اس سے منسلک شعبوں میں اِختراع اور کاروباری صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے روزگار کے متلاشی بننے کے بجائے روزگار فراہم کرنے والے بنیں۔اُنہوں نے زراعت کے وسیع امکانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا،’’جب ہم یہ طے کرتے ہیں کہ کون سی صنعت قائم کی جائے اور اس میں کامیابی کے کتنے امکانات ہیں، تو زراعت ایک ایسا شعبہ ہے جس میں بے حد امکانات موجود ہیں۔ اسی لئے ہمیں زراعت سے وابستہ صنعتوں کے قیام پر غور کرنا چاہیے۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ عام طور پر یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ جموں و کشمیر کی معیشت صرف سیاحت پر منحصر ہے۔اُنہوں نے کہا،’’جب میں لوگوں کو بتاتا ہوں کہ ہماری ایس جی ڈی پی میں سیاحت کے ساتھ ساتھ زراعت اور باغبانی بھی اتنی ہی اہمیت رکھتی ہیں تو وہ حیران رہ جاتے ہیں۔ انہیں اندازہ نہیں ہوتا کہ ہمارا زرعی ماحولیاتی نظام کتنا مضبوط ہے۔ زراعت اور اس سے منسلک شعبے جیسے باغبانی، ماہی پروری اور مگس بانی ایک وسیع معاشی نیٹ ورک تشکیل دیتے ہیں۔‘‘وزیر اعلیٰ نے طلبأ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت اپنی زندگی کے ایک اہم مرحلے پر ہیں جہاں انہیں اپنے مستقبل کے حوالے سے اہم فیصلے کرنے ہیں۔اُنہوں نے سرکاری ملازمتوں کی محدودیت کا ذکر کرتے ہوئے صاف الفاظ میں کہا کہ ہر شخص کو سرکاری ملازمت نہیں مل سکتی۔اُنہوں نے کہا،’’اگر میں یہ کہوں کہ آپ سب کو سرکاری نوکری مل جائے گی تو ایک سال کے اندر میں خود کو غلط ثابت کر دوں گا۔ حقیقت یہ ہے کہ سب کو سرکاری نوکری نہیں مل سکتی۔ کچھ کو ملے گی لیکن بہت سے لوگوں کو نہیں۔ پھر باقی لوگ کیا کریں گے؟‘‘انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کو اپنی معیشت کو اپنی موجودہ طاقتوں کی بنیاد پر ترقی دینی ہوگی۔اُنہوں نے کہا،’’اگر ہمارے پاس زمین کے نیچے کوئلہ، لوہے کی کانیں یا تیل ہوتا جیسا کہ کچھ دیگر علاقوں میں ہے، تو شاید ہم یہاں بڑی فیکٹریاں قائم کر سکتے تھے۔ لیکن ہماری حقیقت مختلف ہے۔ ہمیں اپنی صنعتیں انہی وسائل کی بنیاد پر قائم کرنی ہوں گی جو ہمارے پاس موجود ہیں۔‘‘وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صرف روایتی زراعت سے روزگار کے مسائل حل نہیں ہوں گے اور اس کے لئے ویلیو ایڈیشن اور جدید زرعی کاروبار کو فروغ دینا ہوگا۔اُنہوںنے کہا،’’ایک وقت تھا جب ہمارے نوجوان روایتی زراعت سے گہرا تعلق رکھتے تھے، لیکن وقت کے ساتھ ان کی توجہ اس سے ہٹنے لگی کیوں کہ زراعت غیر یقینی دکھائی دیتی تھی۔ موسم کی تبدیلی، منڈیوں تک رسائی میں مشکلات اور دیگر مسائل نے نوجوانوں کو اس شعبے سے دور کیا۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ جامع زرعی ترقیاتی پروگرام (ایچ اے ڈِی پی)، جے کے سی آئی پی اور مشن یووا جیسے پروگرام زراعت کو جدید، ویلیو ایڈیشن پر مبنی اور ٹیکنالوجی سے مربوط شعبہ بنانے کے لئے شروع کئے گئے ہیں۔اُنہوں نے مزید کہا،’’ہماری زمین محدود ہے اور پچھلے بیس یا تیس برسوں کے مقابلے میں زرعی زمین کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس لئے سوال یہ ہے کہ زراعت کو کیسے قابلِ عمل بنایا جائے؟ اس کا جواب ویلیو ایڈیشن، اِختراع اور کاروباری صلاحیت میں ہے۔‘‘وزیرا علیٰ نے ڈیری پروڈکشن کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں ویلیو ایڈیشن کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔اُنہوں نے کہا،’’جموں و کشمیر میں ہم صرف چھ سے سات فیصد دودھ کی پروسسنگ کرتے ہیں جب کہ گجرات میں تقریباً ترانوے فیصد دودھ کو پروسس کر کے اس کی ویلیو ایڈیشن کی جاتی ہے۔ جب آپ دودھ کو پنیر، کھویا یا دیگر مصنوعات میں تبدیل کرتے ہیں تو اس کی قدر کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔‘‘ اُنہوں نے گوشت، ماہی پروری، شہد، پھل، سبزیاں اور پھولوں کی کاشت جیسے شعبوں میں بھی کاروباری امکانات کی نشاندہی کی۔اُنہوں نے ایک نوجوان اختراع کار کا ذکر کرتے ہوئے کہا،’’آج جس نوجوان لڑکی کو ہم نے اعزاز سے نوازا، اس نے دیکھا کہ ہمارے یہاں پھولوں کی شیلف لائف صرف تین دن ہوتی ہے۔ اس نے صرف بہتر پیکیجنگ پر کام کیا اور اب یہی پھول پندرہ دن تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔ جموں مندروں کا شہر ہے اور یہاں پھولوں کی ہمیشہ مانگ رہے گی۔ اس طرح ایک چھوٹی سی جدت بھی کاروبار کا موقع پیدا کر سکتی ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے طلبأ کو ناکامی کے خوف کے بغیر کاروبار شروع کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ اختراع کے عمل میں خطرات اور مشکلات آنا فطری بات ہے۔اُنہوں نے کہا،’’کامیابی کے لئے ضروری نہیں کہ آپ کو سرکاری ملازمت ملے۔ اصل چیز نیت، ایک اچھا خیال اور کچھ نیا کرنے کا جذبہ ہے۔ اس کے بعد حکومت اور اس یونیورسٹی جیسے ادارے آپ کی مدد کے لئے موجود ہیں۔‘‘اُنہوں نے عالمی کاروباری شخصیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا،’’کچھ لوگوں کو خیالات رات کو سوتے ہوئے بھی آ جاتے ہیں۔ آپ ایلون مسک جیسے کاروباری افراد سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ان کے اربوں روپے کے راکٹ کبھی کبھی آسمان میں پھٹ بھی جاتے ہیں، لیکن وہ اسے ناکامی نہیں سمجھتے بلکہ کہتے ہیں کہ انہیں کامیابی کے ساتھ ساتھ دھماکے سے بھی سیکھنے کو ملتا ہے۔‘‘اُنہوں نے نوجوانوں کو خوف پر قابو پانے کی تلقین کرتے ہوئے کہا،’’ناکامی سے نہ ڈریں بلکہ کوشش نہ کرنے سے ڈریں۔ اگر آپ ناکام بھی ہوں تو ہم آپ کو دوبارہ کھڑا ہونے میں مدد کریں گے۔ کوشش کریں، اِختراع پیدا کریں اور آگے بڑھیں۔ہم آپ کی کامیابی کے لئے آپ کے ساتھ ہیں۔ یہ میرا آپ سب سے وعدہ ہے۔‘‘اِس موقعہ پر وزیر اعلیٰ نے چار اِشاعتیں جاری کیں اور دو سٹارٹ اپس اور دو فارمرز پروڈیوسر آرگنائزیشنز کو ان کی کامیابیوں پر اعزاز سے نوازا۔ اُنہوں نے جموں و کشمیر بھر میں زرعی خدمات کو نچلی سطح تک مضبوط بنانے کے لئے 808 نئے کسان خدمت گھر (کے کے جیز) کا بھی آغاز کیا۔اِس سے قبل وزیر اعلیٰ نے یونیورسٹی کیمپس میں منعقدہ ایک نمائش کا معائینہ بھی کیا اُنہوں نے وہاںطلبأ، نوجوان کاروباری افراد اور فارمرز پروڈیوسر آرگنائزیشنز کے نمائندوں سے بات چیت کی، ان کے اِختراعی آئیڈیاز کو سراہا اور انہیں زراعت کو ایک جدید اور کاروبار پر مبنی شعبہ بنانے کی ترغیب دی۔