کشمیری زبان کے لیکچرر عہدوں کا سنگین بحران

کشمیری زبان کے لیکچرر عہدوں کا سنگین بحران

وادی کے سرکاری اسکولوں میں 80 فیصد سے زائد اسامیاں خالی

سرینگر// یو این ایس//کشمیر کے سرکاری اسکولوں میں کشمیری زبان کی تدریس کیلئے منظور شدہ لیکچرر عہدوں میں سے 80 فیصد سے زائد تاحال خالی پڑے ہیں، حالانکہ یہ زبان برسوں قبل بطور مضمون نصاب میں شامل کی جا چکی ہے۔محکمہ تعلیم کے مطابق کشمیرکے ہائر سیکنڈری اسکولوں میں کشمیری زبان کے لیے 27 لیکچرر عہدے منظور شدہ ہیں، تاہم ان میں سے صرف پانچ اس وقت تعینات ہیں، جبکہ 22 اسامیاں مختلف اضلاع میں خالی ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق کپواڑہ میں منظور شدہ تمام 5 عہدے خالی ہیں۔ بارہمولہ، گاندربل اور پلوامہ میں دو، دو عہدے پْر نہیں ہو سکے۔ اننت ناگ اور بڈگام میں 4 میں سے 3، بانڈی پورہ اور کوگام میں 2، جبکہ شوپیاں میں ایک عہدہ خالی ہے۔ جموں ڈویژن کے اسکولوں میں فی الحال کشمیری زبان بطور مضمون نہیں پڑھائی جا رہی۔محکمہ کے مطابق کشمیری زبان کو ابتدائی اور مڈل سرکاری اسکولوں میں 2000 کی دہائی کے اوائل میں متعارف کرایا گیا تھا، جبکہ 2018-19کے تعلیمی سیشن سے اسے جماعت نہم اور دہم تک توسیع دی گئی۔ ہائر سیکنڈری سطح پر یہ مضمون اس سے قبل ہی پڑھایا جا رہا تھا۔ حالیہ برسوں میں وادی کے کئی نجی اسکولوں میں بھی کشمیری زبان کو نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔سرکاری ریکارڈ کے مطابق 2009 سے قبل کشمیری لیکچررز کی منظور شدہ تعداد صرف 11 تھی، جسے 2019 میں بڑھا کر 27 کر دیا گیا، تاہم اس کے مطابق بھرتی کا عمل مکمل نہیں ہو سکا۔یہ صورتحال اس کے باوجود برقرار ہے کہ جموں و کشمیر آفیشل لینگویجز ایکٹ 2020 کے تحت کشمیری کو یونین ٹیریٹری کی سرکاری زبانوں میں شامل کیا گیا ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اگرچہ وادی میں کشمیری زبان وسیع پیمانے پر بولی جاتی ہے، لیکن اسے پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت رکھنے والوں کی تعداد نسبتاً کم ہے، جبکہ اردو اور انگریزی بدستور شہری اور متوسط طبقے میں تدریس اور ابلاغ کی ترجیحی زبانیں بنی ہوئی ہیں۔حکومت نے اس معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت کشمیری زبان کی تدریس کو فروغ دینے اور مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس عمل کی نگرانی ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن کشمیر کی نگرانی میں چیف ایجوکیشن آفیسران کی سطح پر کی جا رہی ہے تاکہ اسکولوں میں مرحلہ وار اور منظم نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔