3,014 میگاواٹ کے 4 بڑے منصوبے زیر تکمیل، پیداوار میں دوگنا اضافے کا ہدف
سرینگر// یو این ایس/ // جموں و کشمیر میں اقتصادی سروے رپورٹ 2025-26کے مطابق بجلی پیداوار کی صلاحیت میں نمایاں اضافے کے لیے 3,014 میگاواٹ کے چار بڑے پن بجلی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ان منصوبوں کی تکمیل سے 2026 کے بعد توانائی شعبے میں تاریخی بہتری متوقع ہے۔یو این ایس کے مطابق زیر تعمیر بڑے منصوبوں میں 1000 میگاواٹ پکل دل ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ، 850 میگاواٹ رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ، 624 میگاواٹ کِرو ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ اور 540 میگاواٹ کوار ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ شامل ہیں۔سرکاری رپورٹ کے مطابق پکال دل منصوبہ نومبر 2025 تک 75.67 فیصد فزیکل اور 61 فیصد مالی پیش رفت حاصل کر چکا ہے اور اس کی تکمیل دسمبر 2026 تک متوقع ہے۔ کِرو منصوبہ 73.95 فیصد فزیکل اور 58.42 فیصد مالی پیش رفت کے ساتھ دسمبر 2026 تک مکمل ہونے کی امید ہے۔دوسری جانب رتلے منصوبہ 26.02 فیصد فزیکل اور 24.80 فیصد مالی پیش رفت پر ہے جس کی تکمیل نومبر 2028 تک متوقع ہے، جبکہ کوار منصوبہ 25.81 فیصد فزیکل اور 28.74 فیصد مالی پیش رفت کے ساتھ مارچ 2028 تک مکمل کیا جائے گا۔اقتصادی سروے کے مطابق بجلی کی بڑھتی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹرانسمیشن و ڈسٹری بیوشن نظام کی مضبوطی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ نومبر 2025 تک تقریباً 2000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے مجموعی گرڈ صلاحیت 34,839.06 ایم وی اے تک بڑھائی گئی، جبکہ ٹی اینڈ ڈی لائنوں کی لمبائی 1,76,601 سرکٹ کلو میٹر تک توسیع دی گئی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پن بجلی منصوبوں کی تکمیل سے بیرونی ریاستوں سے بجلی خریدنے پر انحصار کم ہوگا اور یونین ٹیریٹری کی توانائی سلامتی مضبوط ہوگی۔مزید جموں و کشمیر اسٹیٹ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن اس وقت مختلف مراحل میں 14 منصوبوں پر کام کر رہی ہے، جن میں پی ایم ڈی پی-2015 کے تحت 744.1 میگاواٹ صلاحیت کے چھوٹے پن بجلی منصوبے بھی شامل ہیں۔ بعض منصوبوں کو فنڈنگ کے لیے آئی آئی ٹی روڑکی کی جانب سے وزارت نئی و قابل تجدید توانائی کو سفارش کی گئی ہے۔اقتصادی سروے میں آئندہ برسوں کے لیے ایک جامع روڈ میپ پیش کیا گیا ہے جس کا مقصد عوامی، تجارتی اور سرکاری شعبوں کی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات کو پائیدار بنیادوں پر پورا کرنا ہے۔










