32 پنچایت لرننگ سینٹرز قائم، گاوں کی شناخت اجاگر کرنے کے احکامت
سرینگر// یو این ایس // جموں کشمیر میںنچلی سطح پر بلدیاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے حکومتِ جموں و کشمیر نے یونین ٹیریٹری میں 579 پنچایت گھروں کے لیے زمین کی نشاندہی کی ہے، جن میں سے 204 عمارتیں مکمل کی جا چکی ہیں۔یو این ایس کے مطابق محکمہ پنچایتی راج نے مجموعی طور پر 640 پنچایت گھروں کی تعمیر کا ہدف مقرر کیا تھا۔ ڈائریکٹر پنچایتی راج، شام لال کے مطابق 579 عمارتوں کے لیے زمین دستیاب ہو چکی ہے، 435 کیسز میں کام الاٹ کیا گیا ہے جبکہ 204 یونٹس مکمل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ضلعی افسران کو ہدایت دی کہ باقی تمام پنچایت گھر 31 مارچ تک مکمل کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ پنچایت گھر گرام سبھا اجلاسوں کے انعقاد کے لیے بنیادی عوامی اثاثہ ہیں اور پنچایت سیکریٹریز و دیگر عملہ ان عمارتوں کو اپنے سرکاری دفاتر کے طور پر استعمال کریں۔حکومت نے گراس روٹ سطح پر تربیت اور صلاحیت سازی کو فروغ دینے کے لیے 32 پنچایت لرننگ سینٹرز بھی قائم کیے ہیں۔ ڈائریکٹر نے اسسٹنٹ کمشنرز پنچایات کو ہدایت دی کہ ان مراکز کو مکمل طور پر فعال بنایا جائے اور جہاں یہ مراکز کام کر رہے ہیں وہاں کی کامیابیوں پر مختصر ڈاکیومنٹری فلمیں تیار کی جائیں۔انہوں نے زور دیا کہ گرام پنچایت ڈیولپمنٹ پلانز پوری رفتار سے تیار کر کے باضابطہ ہدایات کے اجرا کے فوراً بعد ای،گرام سوراج پورٹل پر اپ لوڈ کیے جائیں۔’میرا گاوں، میری دھروہر‘ اقدام کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پورٹل منتخب دیہات کی منفرد شناخت کو اجاگر کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ افسران کو ہدایت دی گئی کہ ہر گاو?ں کی قدیم وراثت، تاریخی عمارات، نمایاں شخصیات اور دیگر خصوصیات پر مبنی تصاویر اور مختصر تحریری مواد اپ لوڈ کیا جائے۔مزیدپردھان منتری شرم یوگی مان دھن یوجنا** کے تحت اہل مزدوروں کی رجسٹریشن 15 مارچ تک مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جس کے لیے محکمہ محنت کے ساتھ قریبی رابطہ رکھنے پر زور دیا گیا۔










