سٹیلمنٹ اسسٹنٹوں کو پٹواری بنانے کی کوئی گنجائش نہیں

معاملہ عدالتِ عالیہ کی ہدایات پر محکمہ میں زیر غور//حکومت جموں کشمیر

سرینگر//یو این ایس/ حکومتِ جموں و کشمیر نے واضح کیا ہے کہ موجودہ بھرتی قواعد کے تحت سیٹلمنٹ اسسٹنٹوں کو باقاعدہ طور پر پٹواری مقرر کرنے یا ان کی مستقلی کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے، تاہم عدالتِ عالیہ کی ہدایات کے بعد معاملہ اس وقت متعلقہ محکمہ میں زیر غور ہے۔حکومت کے مطابق کابینہ فیصلہ نمبر 155/10 مورخہ 23 ستمبر 2005 کے تحت 200 سیٹلمنٹ اسسٹنٹس کی ماہانہ 2,000 روپے مشاہرہ پر تعیناتی کی منظوری دی گئی تھی۔ بعد ازاں محکمہ مال کی جانب سے 29 ستمبر 2005 کو جاری حکمنامہ نمبر 259-ریو(ایس) 2005 کے ذریعے جموں و کشمیر کے دونوں صوبوں کے لیے سیٹلمنٹ کمشنر کی سربراہی میں علیحدہ علیحدہ کمیٹیاں تشکیل دی گئیں تاکہ تقرری کے عمل کی نگرانی کی جا سکے۔یو این ایس کے مطابق یہ بھی طے کیا گیا تھا کہ اگر سیٹلمنٹ اسسٹنٹس پٹواری کے عہدے کے لیے مقررہ بنیادی اہلیت رکھتے ہوں تو انہیں پٹواری کی تربیت فراہم کی جائے گی۔ تاہم حکومت نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر محکمہ مال (ذیلی خدمات) بھرتی قواعد 2009 میں سیٹلمنٹ اسسٹنٹس یا پرزم مین کو پٹواری کے طور پر مقرر کرنے کی کوئی شق موجود نہیں ہے۔ حکام کے مطابق 2014 میں سیٹلمنٹ کارروائیاں ختم ہونے کے بعد سیٹلمنٹ اسسٹنٹس اور پرزم مین کی خدمات کو نو قائم شدہ انتظامی اکائیوں میں استعمال کرنے پر غور کیا گیا اور انہیں وہاں تعینات کیا گیا۔قانونی کارروائی کے حوالے سے بتایا گیا کہ سیٹلمنٹ اسسٹنٹس کی جانب سے عدالتِ عالیہ میں متعدد عرضیاں دائر کی گئیں۔ اہم توہینِ عدالت درخواست سی سی پی (ایس) 506/2019 بعنوان مجید محمد و دیگر بنام مجید وانی و دیگر، ایس ڈبلیو پی نمبر 3001/2015 میں دائر کی گئی، جس میں 8 اپریل 2019 کے عدالتی حکم پر عمل درآمد کی استدعا کی گئی تھی۔عدالتی ہدایات کی تعمیل میں انتظامی محکمہ نے حکمنامہ نمبر 22-جے کے (ریو) 2023 مورخہ 27 فروری 2023 جاری کرتے ہوئے درخواست گزاروں کا دعویٰ مسترد کر دیا۔ اس فیصلے کی تین وجوہات بیان کی گئیں۔اول، درخواست گزاروں نے سیٹلمنٹ اسسٹنٹس کے طور پر مجموعی مشاہرہ کی بنیاد پر تقرری قبول کی تھی اور تحریری طور پر یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ تربیت مکمل ہونے کے بعد وہ پٹواری کے طور پر تقرری کا مطالبہ نہیں کریں گے اور 2,000 روپے ماہانہ مشاہرہ پر ہی کام جاری رکھیں گے۔دوم، حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار جموں و کشمیر سول سروسز (خصوصی دفعات) ایکٹ 2010 کی دفعہ 5 کے تحت زیر غور نہیں آ سکتے کیونکہ انہیں پٹواری کی خالی اسامیوں کے خلاف نہ تو معاہدہ بنیاد پر اور نہ ہی عارضی بنیاد پر تعینات کیا گیا تھا، بلکہ سیٹلمنٹ اسسٹنٹس کے طور پر مجموعی مشاہرہ پر رکھا گیا تھا۔سوم، 2009 کے بھرتی قواعد میں سیٹلمنٹ اسسٹنٹس کو پٹواری مقرر کرنے کی کوئی شق شامل نہیں ہے۔حکومت نے مزید کہا کہ عدالتِ عالیہ کی ہدایات کی روشنی میں معاملہ فی الوقت محکمہ میں زیر غور ہے۔