بھارت کی پہلی جامع انسدادِ دہشت گردی پالیسی’پراہار‘ جاری

بھارت کی پہلی جامع انسدادِ دہشت گردی پالیسی’پراہار‘ جاری

زیرو ٹالرنس، انٹیلی جنس پر مبنی حکمتِ عملی، ٹیکنالوجی کے غلط استعمال اور عالمی تعاون پر زور

سرینگر//یو این ایس/ مرکزی حکومت نے ملک کی پہلی جامع انسدادِ دہشت گردی پالیسی’’پراہار‘‘(یلغار)جاری کر دی ہے، جس کے تحت دہشت گردی کے خلاف ‘‘زیرو ٹالرنس’’ کی بنیاد پر ایک کثیر سطحی حکمتِ عملی وضع کی گئی ہے۔ یہ پالیسی وزارت داخلہ کی جانب سے متعارف کرائی گئی، جس کا مقصد دہشت گردوں، ان کے مالی معاونین اور سہولت کاروں کو فنڈز، ہتھیاروں اور محفوظ پناہ گاہوں تک رسائی سے محروم کرنا ہے۔یو این ایس کے مطابق پالیسی سات بنیادی ستونوں پر مشتمل ہے، جن میں روک تھام، فوری ردِعمل، داخلی صلاحیتوں کا استحکام، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی پر مبنی طریقہ کار، دہشت گردی کو فروغ دینے والے حالات خصوصاً انتہاپسندی کا سدباب، بین الاقوامی کوششوں سے ہم آہنگی، اور سماجی بحالی و استحکام شامل ہیں۔ حکومت نے دہشت گردی کے خطرات کو فضائی، زمینی اور آبی حدود تک پھیلا ہوا قرار دیتے ہوئے اسے ہمہ جہتی چیلنج بتایا ہے۔دستاویز میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے قریبی پڑوس میں وقفے وقفے سے پیدا ہونے والا عدم استحکام غیر منظم علاقوں کو جنم دیتا رہا ہے، جبکہ خطے کے بعض ممالک نے بعض اوقات دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے آلے کے طور پر استعمال کیا۔ تاہم کسی ملک کا نام لیے بغیر واضح کیا گیا کہ بھارت دہشت گردی کو کسی مخصوص مذہب، نسل، قومیت یا تہذیب سے نہیں جوڑتا اور ہر قسم کی دہشت گردی کی بلا امتیاز اور غیر مشروط مذمت کرتا ہے۔پالیسی میں کہا گیا ہے کہ بھارت طویل عرصے سے سرحد پار سرپرستی یافتہ دہشت گردی سے متاثر رہا ہے، جہاں جہادی تنظیمیں اور ان کے فرنٹل گروپس حملوں کی منصوبہ بندی، ہم آہنگی اور عمل درآمد میں مصروف رہے ہیں۔ عالمی دہشت گرد تنظیموں جیسے القاعدہ اور اسلامک سٹیٹ آف سیریا اینڈ عراق کی جانب سے بھی بھارت کو نشانہ بنانے اور سلیپر سیلز کے ذریعے تشدد بھڑکانے کی کوششوں کا ذکر کیا گیا ہے۔دستاویز کے مطابق بیرونِ ملک سے سرگرم دہشت گرد عناصر جدید ٹیکنالوجی، بشمول ڈرونز، روبوٹکس، انکرپشن، ڈارک ویب اور کرپٹو والیٹس کا استعمال کرتے ہوئے خفیہ کارروائیاں کرتے ہیں، جس سے ان کی مالی لین دین اور منصوبہ بندی کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔ پالیسی میں کیمیکل، بایولوجیکل، ریڈیولوجیکل، نیوکلیئر، ایکسپلوسیو اور ڈیجیٹل مواد تک دہشت گردوں کی رسائی کو روکنے کو بھی بڑا چیلنج قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سائبر حملوں کے ذریعے بھارت کو نشانہ بنانے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔حکومت نے بتایا کہ روک تھام کی حکمتِ عملی میں انٹیلی جنس اکٹھا کرنے اور اسے فوری طور پر متعلقہ ایجنسیوں تک پہنچانے کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے انٹلی جنس بیوروکے تحت ملٹی ایجنسی سینٹر اور جوائنٹ ٹاسک فورس آن انٹیلی جنس کو مرکزی پلیٹ فارم بنایا گیا ہے، جہاں ملک بھر میں انسدادِ دہشت گردی سے متعلق معلومات کا حقیقی وقت میں تبادلہ کیا جاتا ہے۔پالیسی میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور انسٹنٹ میسجنگ ایپلی کیشنز کے ذریعے پروپیگنڈہ، بھرتی اور فنڈنگ کے نیٹ ورکس کو توڑنے پر زور دیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اوور گراؤنڈ ورکرز کے ماڈیولز کو بھی مسلسل ناکام بنا رہے ہیں، جن کے ذریعے دہشت گردوں کو لاجسٹک، مالی اور مادی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ حالیہ برسوں میں غیر قانونی اسلحہ نیٹ ورکس اور دہشت گرد گروپوں کے درمیان گٹھ جوڑ کو بھی تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔دہشت گرد حملوں کے جواب کو ایک کثیر فریقی عمل قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مرکز، ریاست اور ضلع سطح کی ایجنسیاں مشترکہ طور پر کام کرتی ہیں، جبکہ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر کے تحت اعلیٰ سطحی ہم آہنگی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔پالیسی میں واضح کیا گیا ہے کہ بھارتی قوانین، بشمول انسدادِ دہشت گردی قوانین، انسانی حقوق اور ‘‘قانون کی حکمرانی’’ کو ملحوظ رکھتے ہیں۔ ہر ملزم کو ضلعی عدالتوں سے لے کر اعلیٰ عدلیہ تک قانونی چارہ جوئی کے متعدد مواقع میسر ہوتے ہیں۔مزید برآں، غربت اور بے روزگاری جیسے سماجی و معاشی مسائل کو بھی دہشت گردی کے فروغ کا سبب بننے سے روکنے کے لیے حکومتی اسکیموں کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر دو طرفہ اور کثیر جہتی معاہدوں کے ذریعے مطلوب دہشت گردوں کی حوالگی، عالمی سطح پر نامزدگی اور اقوامِ متحدہ میں کارروائی کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔پالیسی میں کہا گیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کے قانونی نظام کو بدلتے چیلنجز کے مطابق وقتاً فوقتاً ترمیم کی ضرورت ہے، اور تفتیش کے ہر مرحلے — ایف آئی آر کے اندراج سے لے کر استغاثہ تک — قانونی ماہرین کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ مجرموں کے خلاف مضبوط مقدمات قائم کیے جا سکیں۔حکومت نے اس عزم کا بھی اظہار کیا ہے کہ انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے دہشت گرد مقاصد کے لیے غلط استعمال کے عالمی چیلنج سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام جاری رکھا جائے گا، جبکہ جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے مستقبل کے خطرات کا مؤثر مقابلہ کیا جائے گا۔