mufti_Nazir_Qasmi

روزہ ہی وہ جسمانی اور روحانی عبادت ہے جو افراد اور سماج کو پاکیزہ بناسکتی ہے

رمضان المبارک کے پہلے جمعہ پر مرکزی مسجد شریف نالہ بل نوشہرہ میں مفتی نذیر احمد القاسمی کا خطاب

سرینگر /کے پی ایس / / رمضان المبارک کو اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم اور عنایات کی بہار بتاتے ہوئے دارالعلوم رحیمیہ کے استاد اوراسلامی اسکالر مفتی نذیر احمد القاسمی نے کہا ہے کہ جس طرح ہر طبقہ اپنے لئے کسی مخصوص سیزن کے انتظار میں رہتا ہے ۔ٹھیک اسی طرح ایمان و اخلاص والے لوگ منتظر رہتے ہیں کہ کب انہیں رمضان المبارک کے مقدس ایام نصیب ہوں تاکہ وہ اپنی دنیاوی اور اخروی زندگی کو پُر بہار بنالیں۔انہوں نے کہا ہے کہ صوم یا روزہ ہی وہ جسمانی اور روحانی عبادت ہے جو عملاً ایک فرد اور جملہ سوسائٹی کو پاکیزہ بناسکتی ہے اور گناہوں و احکام خداوندی کی خلاف ورزی سے روک سکتی ہے۔ کشمیر پریس سروس کے موصولہ بیان کے مطابقسال 1447ھ کے رمضان المبارک کے پہلے جمعہ پر مرکزی مسجد شریف نالہ بل نوشہرہ میں ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مفتی نذیر احمد قاسمی نے مفصل اور مدلل انداز میں روزہ کی اہمیت افادیت اور اسکے فوائد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ایمان والوں سے فرض روزے قائم کرنے کا براہ راست حکم دیا ہے جس کی تکمیل ہر مسلمان مرد اور خاتون پر فرض عین ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ روزوں کے ذریعے اپنے بندوں کی جسمانی اور روحانی تطہیر چاہتے ہیں اور اسی لئے بندوں کی بھوک اور پیاس کے بدلے میں انہیں طرح طرح کے انعام و اکرام سے نوازتا ہے جن میں سب سے مقدم بندے کو دولتِ تقوی سے مالا مال کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ بندہ اس کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے مخصوص وقت تک اپنی حلال اور جائز خواہشات کو دباکر رکھے۔ انہوں نے کہا کہ روزہ صرف کھانا پینا چھوڑ دینے کا نام نہیں ہے بلکہ ایک رازداری کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے رب کی کامل بندگی کا نمونہ پیش کرے۔ اسی لئے احادیث میں آ یا ہے کہ بہت سارے روزگاروں کے ہاتھ بھوک اور پیاس کے سوا کچھ نہیں آ یے گا کیونکہ ایسے لوگ کھانے پینے سے پرہیز تو کرتے ہیں لیکن روزوں سے میل کھانے والے مجموعی کردار کا نمونہ پیش نہیں کرتے ہیں۔ مفتی صاحب نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا نظم اور نظام اتنا مربوط اور منظم ہے کہ وہ بندے سے اتنا کچھ ہی کرواتا ہے جسے کرنے کی صلاحیت بندے میں پہلے سے بھر رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک سماج کی تطہیر کے لئے ایک نسخہ کیمیا ہے۔ کیونکہ روزوں کے نتیجے میں جب افراد متقی بنیں تو بگڑے سماج کا حلیہ خود بخود بدل جائے گا۔ مفتی صاحب نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ احترام رمضان کو اپنا شعار بنالئیں اور نماز اور روزہ کے ساتھ ساتھ تلاوت قران، صدقات، خیرات، مدد و اعانت اخوت اور خیر و بھلائی کا اہتمام کریں۔ ایک سوال کے جواب میں مفید اعظم رحیمیہ نے کہا کہ کسی بھی مدرسہ، یتیم خانہ، مکتب یا فلاحی ادارے کے لئے کمیشن کے عوض چندہ جمع کرانا سراسر ناجائز اور غیر شرعی ہے۔ جس سے ایسے اداروں کے ذمہ داران اور چندہ جمع کرنے والے سبھی گنہگار ہو جاتے ہیں۔