جموں//وزیرتعلیم سکینہ اِیتو نے ایوان کو بتایا کہ حکومت نے ایک تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں تقریباً 3000 سی پی ڈبلیوز کو مستقل کیاہے۔اِس طرح ان کا طویل عرصے سے زیرِ اِلتوا ٔمطالبہ پورا کیا گیا۔وزیرموصوفہ نے یہ بات آج ایوان میں رُکن اسمبلی شبیر احمد کلے کے اُٹھائے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہی ۔ اُنہوں نے بتایاکہ محکمہ نے بتاریخ12؍ فروری 2018 کے فیصلے کی تعمیل کے لئے اقدامات کئے ہیں جو سپریم کورٹ کی جانب سے ایس ایل پی کی مستردگی کے بعد کئے گئے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ درخواست گزاروں کے دعوے کو مقدمے کے مخصوص حقائق اور حالات کے پیش نظر مدنظر رکھا گیا اور یہ ایک وقتی اقدام کے طور پر کیا گیا ہے جو سپریم کورٹ کے زیراِلتوأ نظرثانی درخواست کے فیصلے اور ہائی کورٹ میں زیر اِلتوأ توہین/روبکار کے پیش نظر ہے۔وزیر نے درخواست گزاروں کو پنشن سے متعلق فوائد دینے کے بارے میں کہا کہ یہ معاملہ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کو بھیجا گیا ہے تاکہ اسے منظوری کے لئے مجاز اَتھارٹی کے سامنے پیش کیا جا سکے جس کی منظوری کا اِنتظار ہے۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ 246 سی پی ڈبلیوز کی طرف سے16؍ اکتوبر 2008 سے مفروضی فوائد کے حصول کے لئے پیش کردہ دعوے کا محکمہ کی طرف سے جائزہ لیا گیا اور کشمیر کے ناظم سکولی تعلیم نے اسے مسترد کر دیا کیوں کہ یہ قدردانی سے خالی، قانون میں ناقابل قبول اور ایس آر او۔308آف2008 کی دفعات کے تحت شامل نہیں تھا۔










