جموں//وزیر برائے اِمدادِ باہمی جاوید احمد ڈار نے ایوان کو آگاہ کیا کہ جے اینڈ کے سٹیٹ کوآپریٹیو ایگری کلچر اینڈ رورل ڈیولپمنٹ بینک لمٹیڈ(جے اینڈ کے ایس سی اے آر ڈِی)جو 1962 میں جموں و کشمیر کوآپریٹیو سوسائٹیز ایکٹ 1960 کے تحت قائم کیا گیا تھابینکنگ ریگو لیشن ایکٹ1949 کے تحت رجسٹرڈ نہیں ہے اور اِس لئے ریزو بینک آف اِنڈیا دائرہ اختیار میں نہیں آتاہے۔وزیرموصوف نے یہ بات آج ایوان میں اراکین اسمبلی راجیو کمار بھگت ، وِکرم رندھاوا، سرجیت سنگھ سلاتھیہ اور وِجے کمار کی طرف سے اُٹھائے گئے ایک مشترکہ سوال کا جواب دیتے ہوئے کہی ۔اُنہوں نے کہا کہ اس وقت بینک یونین ٹیریٹری حکومت کے کنٹرول میں ہے جو رجسٹرار کوآپریٹیو سوسائٹیز (آر سی ایس) اور محکمہ کوآپریٹیوز کے ذریعے اس کی نگرانی کر رہی ہے۔وزیرجاوید ڈار نے مزید بتایا کہ بینک کو دیوالیہ قرار نہیں دیا گیاہے اور حکومت نے طویل مالی اور آپریشنل پریشانی کی وجہ سے جموں و کشمیر کوآپریٹیو سوسائٹیز ایکٹ 1989 کی دفعات کے مطابق لیکویڈیشن کا عمل شروع کیا ہے۔اُنہوں نے وضاحت کی کہ بینک کی مالی مشکلات بتدریج جمع شدہ نقصانات، کمزور گورننس اور اندرونی کنٹرول کے نظام، قرضوں کی ناقص وصولی اور نقدی کی قلت کے باعث پیدا ہوئیں۔ اُنہوں نے کہا کہنیشنل بینک فار ایگریکلچر اینڈ رورل ڈویلپمنٹ (این اے بی اے آر ڈی) کی جانب سے ناکافی ری فائنانس سپورٹ اور یونین ٹیریٹری حکومت کی محدود مالی اِمدادکی وجہ سے صورتحال کو مزید خراب ہوئیء کیو ںکہ بینک زیادہ تر ری فائنانس اور حکومتی تعاون پر انحصار کرتا تھا۔ نتیجتاً واجبات اثاثوں سے بڑھ گئے اور بینک کی جمع کنندگان کو ادائیگی کی صلاحیت شدید متاثر ہوئی۔وزیرموصوف نے بتایا کہ شدید نقدی بحران کے باعث بینک نے بشمول بشناہ برانچ، میچورڈ فکسڈ ڈپازٹس کی ادائیگی روک دی ہے جس کے باعث متعدد جمع کنندگان ادائیگی کے منتظر ہیں۔ اُنہوں نے ایوان کو یقین دِلایا کہ جمع کنندگان کو رقوم کی واپسی حکومت کی منظور شدہ تحلیل اور جمع کنندگان کے تحفظ کے فریم ورک کا حصہ ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ تمام برانچوں بشمول بشناہ میں جامع کے وائی سی تصدیقی عمل مکمل کیاگیا ہے تاکہ جمع کنندگان کے دعوؤں کی توثیق کی جا سکے۔اُنہوںنے کہا کہ وائنڈ اپ آرڈر کے اِجرأاور لیکویڈیٹرز کی تقرری کے بعد، تصدیق شدہ دعوؤں کی ادائیگی مرحلہ وار قانونی تقاضوں اور ترجیحی ترتیب کے مطابق کی جائے گی۔وزیر اِمداد باہمی نے مزید کہاکہ ڈیپازٹ اِنشورنس اینڈ کریڈٹ گارنٹی کارپوریشن (ڈِی آئی سی جی سی) کا طریقہ کار لاگو نہیں کیا گیاکیوں کہ یہ صرف ان بینکاری اداروں پر لاگو ہوتا ہے جو 1949 کے بینکنگ ریگولیشن ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہوںجبکہ جے اینڈ کے ایس سی اے آر ڈِی بینک اس ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ نہیں ہے۔اُنہوں نے جمع کنندگان کے مفادات کے تحفظ کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جمع کنندگان کی واجبات کا تفصیلی تخمینہ تیار کر کے حکومت کو پیش کیا گیا ہے جس میں قانون کے مطابق بجٹ کے عمل کے ذریعے ممکنہ فنڈنگ کی فراہمی بھی شامل ہے۔










