وزیر اعظم نے فرانسیسی صدر کا خیرمقدم کیا، دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اظہار

وزیر اعظم نے فرانسیسی صدر کا خیرمقدم کیا، دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اظہار

ہند،فرانس شراکت داری کو نئی جہت دینے پر اتفاق، عالمی تعاون اور ذمہ دارانہ اے آئی کے عزم کی عکاس//وزیر اعظم

سرینگر//یو این ایس///وزیر اعظم نریندر مودی نے فرانس کے صدر ایمنونل میکرون کا بھارت آمد پر پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دورہ بھارت–فرانس اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ممبئی اور نئی دہلی میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقاتیں دونوں ممالک کے درمیان دفاع، معیشت، ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلی اور عالمی امور میں تعاون کو مزید وسعت دیں گی۔یو این ایس کے مطابق وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں فرانسیسی صدر کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ بھارت اس دورے کو دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے ایک نئے موقع کے طور پر دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور فرانس کے درمیان دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری نہ صرف دونوں ممالک کے مفاد میں ہے بلکہ عالمی امن، استحکام اور ترقی کے لیے بھی کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان جاری بات چیت میں دفاعی تعاون، جدید ٹیکنالوجی، قابل تجدید توانائی، خلائی شعبہ، بحری سلامتی اور انڈو پیسیفک خطے میں اشتراک جیسے امور سرفہرست رہنے کی توقع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس دورے سے باہمی سرمایہ کاری، صنعتی شراکت داری اور تعلیمی و سائنسی روابط کو بھی نئی رفتار ملے گی۔دوسری جانب وزیر اعظم نے پیر کو نئی دہلی میں منعقدہ انڈیا اے آئی ایمو ایکسپوکا افتتاح کرتے ہوئے اسے خیالات، اختراع اور عزم کا ایک طاقتور سنگم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایکسپو عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے میدان میں بھارت کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں اور قیادت کی عکاسی کرتی ہے۔وزیر اعظم کے مطابق اس ایکسپو میں 600 سے زائد ہائی پوٹینشل اسٹارٹ اپس، 300 سے زیادہ نمائشی پویلین اور 13 ممالک کے خصوصی پویلین شامل ہیں، جو عالمی اے آئی ایکو سسٹم میں بین الاقوامی اشتراک کو اجاگر کرتے ہیں۔ تقریب 70 ہزار مربع میٹر سے زائد رقبے پر محیط ہے اور اسے تین موضوعاتی دائروں—عوام، سیارہ اور ترقی—کے تحت ترتیب دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایکسپو نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ بھارت مصنوعی ذہانت کو ذمہ دارانہ، جامع اور وسیع پیمانے پر انسانی ترقی کے لیے استعمال کرنے کا خواہاں ہے۔ ان کے بقول، ‘‘بھارتی نوجوانوں اور اختراع کاروں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے جو عالمی سطح پر مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق ایک جانب فرانسیسی صدر کا دورہ بھارت–فرانس تعلقات کو نئی توانائی فراہم کرے گا، تو دوسری جانب انڈیا اے آئی امپیکٹ ایکسپو جیسے عالمی ایونٹس بھارت کی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی طاقت اور اس کے عالمی کردار کو مزید مستحکم کریں گے۔ دونوں پیش رفتیں بھارت کی خارجہ پالیسی اور تکنیکی ترقی کے حوالے سے ایک اہم مرحلہ تصور کی جا رہی ہیں۔