’اراضی قبضہ‘ ریمارکس پر سیاسی گھمسان، اپوزیشن کااسمبلی میں ہنگامہ

’اراضی قبضہ‘ ریمارکس پر سیاسی گھمسان، اپوزیشن کااسمبلی میں ہنگامہ

شدید شور شرابے کے بعد بی جے پی رکن وکرم رندھاوا نے مبینہ متنازع ریمارکس واپس لیے

سرینگر//یو این ایس/// جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں منگل کے روز اْس وقت ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی جب لنگیٹ کے رکن اسمبلی شیخ خورشید نے ایوان کی توجہ بی جے پی کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا کی جانب سے حالیہ دنوں میں دیے گئے مبینہ ریمارکس کی طرف مبذول کرائی۔ احتجاج میں کانگریس کے رکن عرفان حفیظ لون اور نیشنل کانفرنس کے متعدد اراکین بھی شامل ہو گئے، جس کے نتیجے میں ایوان میں شدید نعرہ بازی اور گرما گرم بحث چھڑ گئی۔یو این ایس کے مطابق وقفہ سوال ختم ہوتے ہی شیخ خورشید اور عرفان حفیظ لون اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ رندھاوا کی جانب سے ‘‘کشمیری مسلمانوں کو زمین ہتھیانے والا’’ قرار دینے سے متعلق بیان پر وضاحت لی جائے۔ خورشید نے الزام عائد کیا کہ رندھاوا نے پوری کشمیری قوم کی توہین کی ہے اور کہا کہ ‘‘جو خود زمین پر قبضے کے الزامات کا سامنا کر رہا ہے، وہ دوسروں پر الزام تراشی کر رہا ہے۔اسی دوران ایک رکن اسمبلی نے خاصرہ نمبر 211 درج پلے کارڈ لہرا کر احتجاج کیا، جو جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے وکرم رندھاوا کو مبینہ طور پر چک گنیشو، منڈل تحصیل، جموں میں زمین پر قبضے کے سلسلے میں جاری شوکاز نوٹس کی طرف اشارہ سمجھا گیا۔نیشنل کانفرنس کے اراکین نے ‘‘چور مچائے شور’’ کے نعرے لگائے اور مطالبہ کیا کہ رندھاوا ایوان میں باقاعدہ معافی مانگیں۔ رکن اسمبلی اعجاز جان نے کہا کہ پہلے پیر پنجال کے لوگوں کے خلاف زبان استعمال کی گئی اور اب کشمیریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔شدید ہنگامہ آرائی کے دوران ڈپٹی چیف منسٹر سریندر چودھری نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ زمینوں پر تجاوزات کا مسئلہ صرف جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی تک محدود نہیں بلکہ اس میں ریاستی، کسٹوڈین، اوقاف، جنگلات اور دفاعی اراضی بھی شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ‘‘زمین پر قبضہ کرنے والوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا’’ اور ایوان کے وقار کو برقرار رکھنے کی اپیل کی۔وکرم رندھاوا نے اپنی صفائی میں کہا کہ انہوں نے کسی مخصوص برادری کا نام نہیں لیا بلکہ ایک مخصوص علاقے کا حوالہ دیا تھا۔ انہوں نے اسپیکر سے ریکارڈ چیک کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا، ‘‘اگر میں نے کوئی فرقہ وارانہ لفظ استعمال کیا ہے تو میں اسے واپس لینے کو تیار ہوں۔اسپیکر عبدالرحیم راہِر نے یقین دہانی کرائی کہ ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے گا اور اگر متنازع الفاظ موجود ہوئے تو انہیں حذف کر دیا جائے گا۔ بعد ازاں رندھاوا نے اپنے الفاظ واپس لینے کا اعلان کیا، جس کے بعد احتجاج کرنے والے اراکین اپنی نشستوں پر واپس لوٹ آئے اور ایوان کی کارروائی دوبارہ معمول پر آگئی۔اسمبلی میں پیش آئے اس واقعہ نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے اور اپوزیشن جماعتوں نے اسے حساس نوعیت کا معاملہ قرار دیتے ہوئے آئندہ ایسے بیانات سے گریز کی ضرورت پر زور دیا ہے۔