سیر ۔ ہمدان میونسپل کمیٹی کو ڈِ ی نوٹیفائی کرنے کا کوئی اَقدام نہیں۔حکومت

جموں//حکومت نے قانون ساز اسمبلی کو مطلع کیا کہ سیر ۔ہمدان میونسپل کمیٹی کو ڈِی نوٹیفائی کرنے کی کوئی تجویز نہیں ہے۔وزیر برائے تعلیم سکینہ اِیتو نے وزیراعلیٰ کی جانب سے جواب دیتے ہوئے اسمبلی کو بتایا کہ سیر۔ہمدان کو میونسپل کمیٹی (ایم سی) کے طور پر نوٹیفائی کرنے کا عمل 1996 میں ضلع ترقیاتی کمشنر اننت ناگ کی سفارشات کے بعد شروع ہوا۔اُنہوں نے کہا کہ ضروری رسمی کارروائی مکمل کرنے کے بعد سیر۔ہمدان کو ٹاؤن کے طور پر نوٹیفائی کرنے کے لئے اعتراضات طلب کرنے کا نوٹیفکیشن ایس آر او۔190 بتاریخ11؍ جولائی 2005 کے ذریعے جاری کیا گیا اور بعد میں سیر ۔ہمدان کو ایس آر او ۔ ہمدان کو ایس آر او۔290 بتاریخ 4 ؍جولائی 2006کے تحت میونسپل کمیٹی کے طور پر نوٹیفائی کیا گیا۔وزیر نے بجٹ سیشن کے دوران سوالات کے جواب میں کہا،’’میونسپل کمیٹی کے قیام کے بعد ٹاؤن میں اہم بنیادی ڈھانچے کی ترقی ہوئی ہے۔‘‘اُنہوں نے رُکن اسمبلی ریاض احمد خان کی طرف سے اُٹھائے گئے سوال کے جواب میں بتایا کہ سیر۔ہمدان کی موجودہ تخمینہ شدہ آبادی تقریباً 11,064 ہے جبکہ 2011 ء کی مردم شماری میں یہ 8,233 ریکارڈ کی گئی تھی جو کہ مستحکم آبادیاتی ترقی کی عکاسی کرتی ہے۔وزیر نے شہرکی حکمت عملی اور ترقیاتی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ سیر۔ہمدان شری امرناتھ جی شرائین کے راستے پر واقع ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ملک گیر پالیسی فریم ورک شہری مقامی اِداروں کو مضبوط اور اَپ گریڈ کرنے کی تجویز دیتا ہے جس میں دیہی سے شہری درجہ بندی اور میونسپل کمیٹیوں سے میونسپل کونسلوںمیں منتقلی شامل ہے۔اُنہوںنے کہا کہ میونسپل اِنتخابات 2018 اور بعد کے ضمنی الیکشن 2020 میںسیر ۔ہمدان کی تمام وارڈوں نے اپنے نمائندے منتخب کئے جو شہری حکمرانی میں عوام کی مسلسل شرکت کی عکاسی کرتا ہے۔اسمبلی کو یہ بھی بتایا گیا کہ میونسپل کمیٹی شانگس کو حکومت نے ایس آر او ۔126 بتاریخ22؍ مارچ 2013 کے ذریعے ڈِی نوٹیفائی کیا۔ وزیر نے کہا کہ اس کے خاتمے کے بعد میونسپل کمیٹی میں موجود مستقل عملے کو قریبی میونسپل اِداروں میں دوبارہ تعینات کیا گیا تاکہ ان کی خدمات کا بہترین اِستعمال ممکن ہو سکے۔ سابقہ میونسپل کمیٹی کی متحرک اثاثے بھی دیگر میونسپل اداروں/دفاتر میں ان کے عملی استعمال کے مطابق منتقل یا تقسیم کئے گئے۔اُنہوں نے کہا کہ میونسپل کمیٹی شانگس کے خاتمے کے وقت 10سی پی ڈبلیو (سویپرز) کام کر رہے تھے جو عارضی اور ضرورت کے مطابق بھرتی کئے گئے تھے اور اس بھرتی سے انہیں مستقل ملازمت یا حقوق حاصل نہیں ہوتے۔تاہم، وزیر نے کہا کہ میونسپل کمیٹی کے خاتمے کے پانچ سال بعدیہ 10 سی پی ڈبلیوز ہائی کورٹ میں ایس ڈبلیو پی نمبر 2050/2018 کے تحت محمد عاشق شیخ و دیگر بمقابلہ ریاست جموں و کشمیر کے لئے اپیل دائر کی جس میں ان کی سویپر کے طور پر بھرتی/شمولیت کی درخواست زیر غور نہیں ہے۔رُکن اسمبلی پہلگام الطاف احمد وانی نے ضمنی سوالات اُٹھائے جن کے جواب وزیر نے دئیے۔