جموں//حکومت نے ایوان کو آگاہ کیا کہ جموں و کشمیر میں پی ایم پیکیج ملازمین کی سنیارٹی، کیڈر مینجمنٹ، پوسٹنگ اور کیریئر میں ترقی سمیت مختلف امور کو منظم کرنے کے ساتھ ساتھ اُن کے سروس مفادات کے تحفظ اور استحکام کے لئے جامع اور مضبوط رہنما خطوط جاری کئے گئے ہیں۔نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری نے یہ بات آج ایوان میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے رُکن اسمبلی محمد یوسف تاریگامی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے بتائی۔اُنہوںنے کہا کہ پیکیج کے تحت بڑے پیمانے پر تقرریوں کے ساتھ ایک واضح سروس مینجمنٹ فریم ورک کی ضرورت محسوس کی گئی جس کے تحت گورنمنٹ آرڈر نمبر 34۔جے کے ( ڈِی ایم آر آر آر)2022 بتاریخ 22؍ جون 2022 جاری کیا گیا تاکہ پی ایم پیکیج ملازمین کی سینیارٹی، کیڈر مینجمنٹ، پوسٹنگ اور کیریئر میں ترقی کو منظم کیا جا سکے۔نائب وزیرا علیٰ نے کہا کہ اس آرڈر میں علیحدہ سینیارٹی لسٹ برقرار رکھنے، ترقیوں کے لئے پیشگی طور پر سپرنمریری پوسٹوں کی تخلیق، پی ایم پیکیج کی تمام اَسامیوں کو صوبہ کشمیر کے ڈویژنل کیڈر اسامیاں قرار دینے اور اِن سیٹوپروموشن کے مواقع فراہم کرنے جیسی دفعات شامل ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ دفعات حفاظتی اور سہولیت فراہم کرنے والی نوعیت کی ہیں اور اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ پی ایم پیکیج ملازمین کو مستقل ملازمین کے مقابلے میں کوئی نقصان نہ ہو۔اُنہوںنے یہ بھی بتایا کہ وزیر اعظم کے پیکیج کے تحت کشمیری مائیگرنٹ کی بھرتی اور ابتدائی تقرری جموں و کشمیر مائیگرنٹوں (سپیشل ڈرائیو) ریکروٹمنٹ رولز، 2009 کے تحت ہوتی ہے جو ایس آر او۔412 بتاریخ30؍ دسمبر 2009 کے ذریعے نوٹیفائی کئے گئے تھے اور 6000 سپرنمریری اَسامیوں کی تخلیق گورنمنٹ آرڈر نمبر آر اِی وِی/ایم آر/ 147 آف 2009 بتاریخ28 ؍ اکتوبر 2009 (3000 اَسامیاں) اور گورنمنٹ آرڈر نمبر58۔جے کے ( ڈِی ایم آر آر آر ) آف 2017 بتاریخ29؍ جولائی 2017 (3000 اَسامیاں) کے ذریعے منظور کی گئی تھی۔اُنہوں نے مزید کہا کہ سروس مینجمنٹ میں مزید بہتری اور ریگولرکیڈر ڈھانچے میں ممکنہ شمولیت سے متعلق معاملہ پہلے ہی جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ خزانہ کے ساتھ قواعد کے تحت جانچ اور مناسب اَقدامات کے لئے اُٹھایا جا چکا ہے۔
نائب وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ صوبائی کمشنر کشمیر کی رپورٹ کے مطابق مقررہ اراضی حصولی طریقہ کار، پیشگی نوٹیفکیشن اور تصدیق کے بغیر کوئی زمین حاصل نہیں کی جاتی اور تمام حصولیاں قابل اطلاق اراضی قوانین کے مطابق کی جاتی ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر مائیگرنٹ امووایبل پراپرٹی (پریزرویشن، پروٹیکشن، ریسٹرینٹ آن ڈسٹریس سیلز) ایکٹ 1997 کے تحت متعلقہ ضلع ترقیاتی کمشنروں کو مائیگرنٹ پراپرٹیز کے نگہبان کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔اُنہوں نے بتایا کہ اِنتظامی سیکرٹری محکمہ داخلہ کی سربراہی میں ایک سکریننگ کمیٹی کو ازسرنو تشکیل دیا گیا ہے جس نے متعدد میٹنگیں منعقد کیںاور تمام عارضی رجسٹریشن معاملات پر اَپنی سفارشات پیش کی ہیں اور اس معاملے میں کوئی غیر ضروری تاخیر نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ چونکہ اس عمل میں سکیورٹی اور خطرے کے جائزے شامل ہوتے ہیں، اس لئے ہرمعاملے کی سی آئی ڈی اور ضلعی اِنتظامیہ کی جانب سے تفصیلی جانچ ضروری ہوتی ہے جس کے باعث وقت درکار ہوتا ہے۔نائب وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ریلیف آرگنائزیشن (مائیگرنٹ) ریلیف زمرے کے تحت رجسٹرڈ مائیگرنٹوں کو مفت راشن فراہم کرتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ رجسٹرڈ مائیگرنٹ کنبوں بشمول پنشنروںکو این ایف ایس اے ڈیٹا بیس میں شامل کرنے سے مستحق پنشنر مائیگرنٹ کو پبلک ڈِسٹری بیوشن سسٹم کے تحت مقررہ غذائی اجناس حاصل کرنے میں سہولیت ملی ہے۔










