جموں//وزیر برائے جنگلات و ماحولیات جاوید احمد رانا نے قانون ساز اسمبلی کو آگاہ کیا کہ حکومت جموں و کشمیر جنگلات، جنگلی حیات اور ماحولیات کے تحفظ، بقا ئے اوردیرپا اِنتظام کے لئے متعدد یو ٹی اور مرکزی معاونت والی سکیمیںعملا رہی ہے۔وزیر موصوف نے رُکن اسمبلی راجیو جسروٹیہ کی طرف سے اُٹھائے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اِس وقت جاری اہم سکیموں میں کیپیکس بجٹ، گرین اِنڈیا مشن (جی آئی ایم)، فارسٹ فائر پریوینشن اینڈ مینجمنٹ سکیم (ایف ایف پی ایم)، نگر ون یوجنا (این وِی وائی)، سپیشل اسسٹنس ٹو سٹیٹس فار کیپٹل انوسٹمنٹ (ایس اے ایس سی آئی)، کیمپا (سی اے ایم پی اے) اور نیشنل پلان فار کنزرویشن آف ایکواٹک ایکوسسٹمز (این پی سی اے) شامل ہیں۔ اُنہوں نے اَپنے جواب میں 2022-23، 2023-24 اور 2024-25 کے دوران جاری کئے گئے فنڈز اور اخراجات کی ضلع وار تفصیلات بھی بتائیں۔اُنہوں نے کہا کہ تمام خریداری اور ترقیاتی کام جنرل فائنانشل رولز (جی ایف آر) اور قائم کردہ حکومتی پروکیورمنٹ گائیڈ لائنز کے مطابق کی جاتی ہے۔وزیر موصوف نے وضاحت کی کہ خاردار تار، کھمبے اور پودے الگ سے خریدنے کے بجائے باڑ لگانے، شجرکاری اور مٹی و نمی کے تحفظ جیسے کام مشترکہ نوٹس انوائٹنگ ٹینڈر (این آئی ٹیز) کے ذریعے ٹھیکے پر دئیے جاتے ہیں۔اُنہوںنے مزید کہا کہ مکمل عمل مقررہ ٹینڈرنگ طریقۂ کار اور مجاز اتھارٹی کی منظوری کے تحت انجام دیا جاتا ہے اور سب سے کم بولی دینے والا ٹھیکیدار (ایل 1) منظور شدہ معیارات کے مطابق سامان فراہم کرتا ہے جس سے شفافیت اور مالی نظم و ضبط کو یقینی بنایا جاتا ہے۔وزیر نے کھیر کے درختوں کی نگرانی کے حوالے سے کہا کہ ان کی کٹائی جموں و کشمیر نان۔فارسٹ لینڈ کھیڑ ٹریز اکیشا کیٹچو(منیجمنٹ پلان) رولز، 2016 کے تحت کی جاتی ہے، جو سینٹرل امپاورمنٹ کمیٹی کی سفارشات اور سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق وضع کئے گئے ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ان قواعد کے رول 8(5) (ایس آر او۔111 آف 2016) کے تحت کسانوں کو مقررہ ضوابط کے مطابق یو ٹی سے باہر کھیڑ کی لکڑی فروخت کرنے کی اجازت ہے۔ٍ وزیر نے ایوان کو بتایا کہ 31؍ دسمبر 2025 تک جموں و کشمیر میں 19,496.73 ہیکٹر جنگلاتی اراضی تجاوزات کی زد میں ہے۔ اُنہوں نے اِس بات پرزور دیا کہ محکمہ جنگلات نے تجاوز شدہ زمین کی بازیابی کے لئے مسلسل اقدامات شروع کئے ہیں جن میں تفصیلی سروے اور جنگلاتی حدود کی حد بندی، انڈین فارسٹ ایکٹ 1927 کی دفعہ 79(اے) کے تحت نوٹسوں کا اجرا، انسدادِ تجاوزات مہم، فصیل بندی اور بازیاب شدہ زمین کی مقامی انواع کے ذریعے بحالی، ٹیریٹوریل ونگوں اور فارسٹ پروٹیکشن فورس کی نگرانی میں اضافہ اور جدید ٹیکنالوجی جیسے ریموٹ سنسنگ، جی پی ایس اور ڈرونز کا اِستعمال شامل ہے۔اُنہوں نے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں طویل مدتی ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے جنگلاتی نظم و نسق کو مضبوط بنانے، غیر قانونی تجاوزات کو روکنے اور ماحولیاتی دیرپائی کے فروغ دینے کے لئے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔










