ہر ضلع میں نشہ علاج مراکز فعال، 57 ٹن غیر معیاری اشیاء ضبط// حکومت
سرینگر//یو این ایس// جموں و کشمیر حکومت نے منشیات کے بڑھتے استعمال کا گہرائی سے جائزہ لینے کیلئے یونین ٹیریٹری کے 10 اضلاع میں سروے کرانے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دیہی سطح پر بحالی صحت کے عمل کو مضبوط بنانے کیلئے ’سرکل آف کیئر‘ کے نام سے کمیونٹی ری ہیبلیٹیشن پروگرام بھی شروع کیا گیا ہے۔یو این ایس کے مطابق وزیر صحت سکینہ ایتو نے بتایا کہ یہ سروے سبسٹنس یوز ڈس آرڈر پر قومی سطح کی مشق کا حصہ ہوگا اور اس کے ذریعے منشیات کے استعمال کے رجحانات اور اثرات کا تفصیلی مطالعہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’سرکل آف کیئر‘ اقدام کے تحت صحت، تعلیم اور دیگر محکموں کے تقریباً 600 کونسلرز کو تربیت دی گئی ہے تاکہ ہر گاؤں میں نشہ چھڑانے سے متعلق رہنمائی اور مدد فراہم کی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نشے سے متعلق امراض کے علاج کیلئے پرائمری ہیلتھ کیئر نظام کو پہلی صف کے علاج کے طور پر مستحکم کر رہی ہے، جبکہ ان پیشنٹ ایڈکشن ٹریٹمنٹ فیسلٹیز میں اضافہ اور طویل مدتی بحالی مراکز کے قیام کا بھی منصوبہ ہے۔ وزیر موصوفہ کے مطابق جموں و کشمیر میں ملک بھر کے مقابلے میں فعال نشہ علاج مراکز کی سب سے زیادہ تعداد موجود ہے۔ سرکاری شعبے میں 21 اے ٹی ایف کام کر رہے ہیں اور ہر ضلع میں کم از کم ایک مرکز فعال ہے، جہاں اب تک تقریباً ڈیڑھ لاکھ مریضوں کو مشاورت فراہم کی جا چکی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ منشیات مخالف قواعد کو حتمی شکل دی جا رہی ہے اور جلد نافذ العمل ہوں گے۔ موجودہ اجلاس میں منشیات کی لعنت کے خلاف ایک بل بھی پیش کیا جائے گا تاکہ اس سماجی مسئلے سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔دوسری جانب وزیر صحت نے غذائی تحفظ کے شعبے میں کی گئی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2025–26 کے دوران سخت نفاذ اور نمونہ جات کی جانچ میں اضافہ کیا گیا۔ معائنوں کی تعداد میں 25 فیصد اضافہ ہوا اور 19,115 انسپکشن انجام دی گئیں، جو مقررہ ہدف سے کہیں زیادہ ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گوشت، پنیر، گھی، مٹھائیوں اور دودھ سے بنی اشیاء جیسے حساس غذائی اشیاء پر 12 خصوصی مہمات چلائی گئیں۔ موبائل فوڈ سیفٹی آپریشنز کے دوران 57 ٹن غیر محفوظ خوراک، جس کی مالیت تقریباً 99.40 لاکھ روپے تھی، ضبط کرکے تلف کی گئی۔اس عرصے میں 1,007 مقدمات درج کیے گئے جن میں 63 فوجداری اور 944 دیوانی نوعیت کے کیس شامل ہیں، جبکہ 1.72 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ 40 ’اسٹاپ یوز‘ نوٹس جاری کیے گئے، 66 لائسنس و رجسٹریشن کیمپ منعقد ہوئے جن سے 7,516 افراد مستفید ہوئے، اور موبائل فوڈ ٹیسٹنگ وینز کے ذریعے 3,463 بیداری و تربیتی کیمپ منعقد کیے گئے۔حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد منشیات اور غیر معیاری خوراک کے خلاف مؤثر اور دیرپا کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔










